امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو اربوں ڈالروں کا خسارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ کے پالیسی مشیر اور ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہوک نے باور کرایا ہے کہ تہران پر عائد امریکی پابندیوں نے ایرانی حکومت کو تیل کی مد میں دس ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدن سے محروم کر دیا ہے۔

یہ بات جمعرات کے روز برائن کی صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ واشنگٹن نے کچھ روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے تمام تر چھوٹ اور استثنا کا سلسلہ ختم کر دے گا۔ اس نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مئی کے آغاز کے ساتھ ہی تہران سے اپنی درآمدات کو روک دیں بصورت دیگر انہیں سزا پر مبنی اقدام کا سامنا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کے واسطے کام کرے گا۔ واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی پوری کرنے کوششیں کر رہا ہے تاکہ ایرانی تیل پر پابندی کے بعد عالمی منڈی میں عدم توازن پیدا نہ ہو۔

انہوں نے ایک بار پھر ایران پر تیل کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن کو دہشت گردی کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف قانون سے ماورا ایرانی نظام حکومت کو تیل کی آمدن سے محروم کرنا ہے۔

بعد ازاں منگل کے روز وہائٹ ہاؤس میں اقتصادی مشیر لیری کوڈلو کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کا تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے چھوٹ ختم کرنے کے فیصلے سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی منڈیاں مستحکم ہیں اور تیل وافر مقدار میں مہیا ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ آئندہ ماہ دو مئی سے اُن تمام ممالک کو ایران سے تیل کی خریداری مکمل طور پر روک دینا ہو گی جن کو اس وقت امریکی پابندیوں سے چُھوٹ اور استثنا حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں