جولیان اسانج کے وکلاء کی ہسپانوی گروپ کے خلاف ’’بھتا مانگنے ‘‘پر عدالت میں درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کے وکلاء نے اسپین کی اعلیٰ قومی عدالت میں ایک ہسپانوی گروپ کے خلاف اپنے موکل اور ایکواڈور کی وزارت خارجہ کو ہراساں کرنے اور ان سے بھتا طلب کرنے کے خلاف درخواست دائر کردی ہے۔

وکی لیکس کے بانی کو 11 اپریل کو برطانوی پولیس نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کر لیا تھا ۔ان کی گرفتاری برطانیہ کی ایک عدالت کی جانب سے 2012ء میں جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے تحت عمل میں آئی تھی۔جولیان اسانج اگست 2012ء سے ایکواڈور کے سفارت خانے کے احاطے ہی میں رہ رہے تھے اور وہ اس خدشے کے پیش نظر وہاں سے نکلتے نہیں تھے کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے گا اور پھر انھیں امریکا کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ وہ امریکا کو وکی لیکس کے ذریعے ہزاروں خفیہ فوجی اور سفارتی دستاویزات شائع کرنے کے الزام میں مطلوب ہیں ۔

ایکواڈور کے صدر نے گرفتاری سے قبل جولیان اسانج کی بین الاقوامی کنونشن کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پناہ گزین کی حیثیت ختم کر دی تھی۔وکی لیکس کے مطابق اس کے بعد ایکواڈور کے سفیر نے پولیس کو اسانج کو گرفتار کرنے کے لیے بلا بھیجا تھا۔ان کے خلاف اب برطانیہ کی ایک عدالت میں 2012ء میں دی گئی کی ضمانت کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے اور اس میں انھیں سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایک ہسپانوی ذریعے نے ہفتے کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ جولیان اسانج کے وکلاء کی جانب سے ہسپانوی گروپ کے خلاف ایکواڈور کے سفارت خانے اور وزارت خارجہ کے عملہ سے بھتا طلب کرنے اور انھیں ہراساں کرنے کے الزام میں درخواست دائر کی گئی ہے۔اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ایکواڈرو کے سفارت خانے میں اسانج کی مبیّنہ جاسوسی کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔البتہ اس نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ہسپانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چار افراد کے پاس اسانج کی ویڈیوز اور ذاتی دستاویزات ہیں۔

اسپین کے ایک آن لائن روزنامے ایلڈیاریو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ مواد سفارت خانے میں جاسوسی کے ایک نظام کے تحت حاصل کیا ہے۔سفارت خانے میں سکیورٹی کیمروں اور ملازمین کے ذریعے یہ مواد فراہم کیا گیا تھا اور اسانج کی تمام دستاویزات کی تصاویر لی جاتی رہی تھیں ۔انھوں نے مبیّنہ طور پر وکی لیکس سے اس مواد کو شائع نہ کرنے کے عوض تیس لاکھ یورو (33 لاکھ ڈالر) بھتا وصول کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایلڈیا ریو کا کہنا ہے کہ جولیان اسانج کے وکلاء نے ایکواڈور پر اپنے موکل کی جاسوسی کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور یہ ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کے بیان کردہ موقف کے بالکل متصادم ہے۔انھوں نے برطانوی روزنامے گارڈین سے ایک انٹرویو میں اسانج پر ایکواڈور کے سفارت خانے میں جاسوسی کا ایک مرکز قائم کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

صدر نے گذشتہ سال اسانج کی انٹرنیٹ اور موبائل فون تک رسائی بند کردی تھی اور ان پر اتحادی ممالک کی خارجہ پالیسیوں میں دخل اندازی نہ کرنے سے متعلق ایک تحریری وعدے کو توڑنے کا الزام عاید تھا۔اس کے ردعمل میں اسانج نے ایکواڈور کی حکومت پر اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کے پراسیکیوٹرز نے وکی لیکس کے بانی پر سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔ان پر آرمی کی سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسیا میننگ سے 2010ء میں مل کر امریکی حکومت کے خفیہ کمپیوٹر نظام تک رسائی کا الزام ہے۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ان الزامات پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے اور انھیں ممکنہ طور پر برطانیہ سے بے دخل کرکے امریکا کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔

وکی لیکس کے 47 سالہ بانی کے خلاف امریکا میں سابق صدر براک اوباما کے دور سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔انھوں نے 2010ء میں وکی لیکس کی ویب سائٹ پر امریکی فوج کی افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق ہزاروں خفیہ رپورٹس اور مختلف ملکوں میں امریکی سفارت خانوں کی مراسلت کو شائع کیا تھا۔امریکی محکمہ انصاف نے اسانج پر امریکا کی تاریخ میں خفیہ معلومات کو افشا کرنے کی سب سے بڑی کارروائی میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کی فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ اسانج نے مارچ 2010ء میں محکمہ دفاع کے کمپیوٹرز کے پاس ورڈ کو توڑنے کے لیے چیلسیا میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی تھی۔یہ کمپیوٹر ز امریکی حکومت کے سیکرٹ انٹر نیٹ پروٹو کول نیٹ ورک ( سپر نیٹ) سے مربوط تھے۔ان پر کمپیوٹر میں دراندازی کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں