سری لنکا میں دہشت گرد کی حاملہ بیوی نے پولیس کے سامنے خود کو اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سری لنکا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایسٹر پر دہشت گردی کرنے والے ایک تاجر کی حاملہ بیوی نے پولیس کی چھاپا مار کارروائی کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

امریکی اخبار 'نیویارک پوسٹ' کے مطابق خودکش جیکٹ کی مدد سے خود کو دھماکے سے اڑانے والی خاتون خود بھی دہشت گرد تھی۔ پولیس نے اسے پکڑنے کے لیے اس کے فلیٹ پر چھاپہ مارا تو اس نے خودکش جیکٹ کی مدد سے اپنی اور اپنے پیٹ میں موجود بچے کے جان لے لی۔

خاتون کے خودکش حملے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والی حاملہ خاتون کا شوہر اور خاتون کے دو بھائی ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں دہشت گردی میں ملوث تھے۔

سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مرتکب دو سگے بھائی انصاف اور الہام ابراہیم محمد یوسف ابراہیم نامی ایک تاجر کے بیٹے تھے تاہم فلیٹ میں خود کشی کرنے والی خاتون کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ ان میں سےکس کی بیوی تھی۔ البتہ سری لنکا کے نائب وزیر دفاع روان وییوارڈینی کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار عورت تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ محمد یوسف ابراہیم کے دونوں‌ بیٹوں‌ کی پرورش بنیاد پرستانہ تعلیم کے ماحول میں ہوئی جس کے باعث وہ دونوں دہشت گردوں میں‌ شامل ہو گئے۔ پولیس نے الہام ابراہیم کو کچھ دیر کے لیے گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا تھا تاہم ان کا والد ابراہیم ،جو مسالا جات کا کاروبار کرتا ہے، حملوں میں معاونت کے شبے میں زیر حراست ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں