شام کے مغربی صوبے ادلب میں بڑی کارروائی موافق نہیں ہوگی: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ شام کے مغربی صوبے ادلب میں جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی اس وقت موافق نہیں ہے اور اس ضمن میں شہری سلامتی (سویلین سکیورٹی )کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز بیجنگ میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس شامی حزبِ اختلاف اور ان کے پشتیبان ممالک کے ساتھ مل کر دستوری کمیٹی کی ہیئت ترکیبی کو حتمی شکل دے گا۔

روسی مذاکرات کار الیگزینڈر لافرینتیف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی حکومت اور مسلح حزب اختلاف کے گروپ دونوں مل کر آیندہ مہینوں کے دوران میں دستوری کمیٹی کی ہیئت ترکیبی پر متفق ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بیان قزاقستان کے دارالحکومت نورسلطان میں شام امن مذاکرات کے حالیہ دور کے خاتمے کے بعد جاری کیا تھا۔دستوری کمیٹی کی تشکیل کو شام میں سیاسی اصلاحات اور نئے انتخابات کے انعقاد میں اہم خیال کیا جارہا ہے اور ان کے نتیجے میں شام میں گذشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔

روس شام میں صدر بشار الاسد کی سیاسی اور عسکری امداد کررہا ہے جس کے نتیجے میں شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔روس ہی قزاقستان میں جاری امن عمل میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے اور اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں سفارتی کوششیں اس وقت بالکل ماند پڑ چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں