طالبان نے داعش کے خلاف لڑنے اور القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے کا ارادہ کر لیا :امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا، روس اور چین جمعے کے روز افغانستان سے غیر ملکی افواج کے "باقاعدہ اور منظم انخلا" پر متفق ہو گئے ہیں۔ یہ اُس امن معاہدے کی ایک بنیادی شق ہے جس کے حوالے سے واشنگٹن مذاکرات کر رہا ہے۔

افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے روسی اور چینی عہدے داران سے ملاقات کی۔ خلیل زاد عالمی برادری کا ایسا موقف تلاش کرنے کے واسطے کوشاں ہیں جو افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی کوششوں کو سپورٹ کرے۔

تینوں ممالک کے مشترکہ بیان میں امن عمل کا مطالبہ کیا گیا جس کی قیادت افغانوں کے ہاتھ میں ہو۔ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ "تینوں فریق افغانستان سے منظم طور پر غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ ایک جامع امن عمل کے حصہ ہونا چاہیے"۔

تینوں ممالک نے اعلان کیا کہ طالبان نے شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑنے اور القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا عزم کیا ہے۔ بیان کے مطابق طالبان نے باور کرایا ہے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بیان میں افغان طالبان تحریک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور فنڈنگ کا سلسلہ روکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کے اںخلا اور امریکی تاریخ کے طویل ترین جنگی تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

امریکا، روس اور چین نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک وسیع افغان وفد کے ساتھ جس میں حکومت بھی شامل ہو، جلد از جلد مکالمے کا آغاز کریں۔

افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی ایلچی جلد ہی دوحہ میں طالبان کے ساتھ بات چیت کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں