.

ایران کی ایک مرتبہ پھرآبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کے خلاف مزید معاندانہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کو بند کر دیا جائے گا۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد حسین باقری نے اتوار کے روز ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم آبنائے ہُرمز کو بند نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر دشمنوں کے مخالفانہ اقدامات میں شدت آتی ہے تو ہم اس کو بند کردیں گے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے تیل کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیا جاتا تو پھر یقینی طور پر دوسرے ممالک کے تیل کا راستہ بھی مسدود کردیا جائے گا۔

جنرل باقری نے یہ انتباہ امریکا کے گذشتہ سوموار کے ایک بیان کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔اس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تیل کے خریدار ممالک بھارت ، چین اور ترکی وغیرہ کو پابندیوں سے حاصل استثنا مئی سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب امریکا ان کے خلاف بھی جون میں ایران سے تیل خرید کرنے کی صورت میں پابندیاں عاید کردے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں جولائی 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں ۔البتہ اس سے تیل کے خریدار آٹھ ممالک کو چھے ماہ کے لیے پابندیوں سے چھوٹ دی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کو ایک بیان میں اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ’’ ایران اپنے تیل کی فروخت جاری رکھے گا اور آبنائے ہُرمز کو بھی استعمال کرتا رہے گا لیکن اگر امریکا ہمیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے کوئی احمقانہ اقدام کرتا ہے تو پھر اس کو بھی مضمرات کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا :’’ یہ ہمارے قومی سلامتی کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ خلیج فارس کھلی رہے اور آبنائے ہُرمز بھی کھلی رہے ۔ ہم نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ ایران کے سیاسی اور فوجی عہدے دار ماضی میں متعدد مرتبہ آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو بھی روک سکتے ہیں۔33کلومیٹر طویل آبنائے ہُرمز خلیج اومان کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ ایران کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں سے صرف فجیرہ خلیج اومان کے ساتھ واقع ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اسی اہم آبی راستے سے بحری جہازوں کے ذریعے اپنا تجارتی مال اور تیل دنیا کے دوسرے ممالک کو بھیجتے ہیں۔امریکا کی توانائی اطلاعات انتظامیہ (ای آئی اے) کے گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق آبنائے ہُرمز سے ایک کروڑ ستر لاکھ بیرل یومیہ تیل بحری جہازوں کے ذریعے گذرتا ہےاور یوں اس آبی راستے سے تیل کی قریباً تیس فی صد تجارت ہوتی ہے۔