.

عمر البشیر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنا چاہتے تھے: جنرل البرھان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کے چیئرمین جنرل عبدالفتاح البرھان نے دعویٰ‌کیا ہے کہ معزول صدر عمر البشیر دارالحکومت خرطوم میں دھرنا دینے والے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا ارادہ رکھتے تھے۔

"العربیہ" چینل سے بات کرتے ہوئے جنرل البرھان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی گھٹن کا ماحول پیدا ہونے کے بعد فوج کو مجبورا اقتدار ہاتھ میں لینا پڑا۔ مسلح افواج کی مداخلت کا مقصد شہریوں کو درپیش مشکلات کم کرنا تھا۔

انہوں‌نے کہا کہ فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا بلکہ مسلح افواج نے مظاہرین کو طاقت سے منتشر کرنے کے تمام راستے بند کردیے۔ان کا کہنا تھاکہ فوج کی طرف سے مظاہرین پر واضح‌کردیا گیا تھا کہ سیکیورٹی ادارے ملک کےتحفظ اور شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کےحوالے سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری پوری کریں‌گے۔

ایک سوال کے جواب میں سوڈانی عسکری کونسل کےسربراہ نے کہاکہ معزول صدر اور ان کے بیشتر ساتھی اس وقت کوبرجیل میں قید ہیں اوران کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کےدوران قتل کے واقعات کی فائلیں پراسیکیوٹر جنرل کو بھیج دی گئی ہیں۔