.

الجزائر کے سابق پولیس سربراہ کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات میں تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں پولیس کے ایک سابق سربراہ کو بدعنوانیوں کےا لزامات میں تحقیقات کے لیے عدالت میں طلب کر لیا گیا ہے۔

الجزائر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق میجر جنرل عبدالغنی حامل کو سوموار کے روز ان کے ایک بیٹے کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان سے غیر قانونی سرگرمی ، رشوت خوری ، سرکاری رقوم میں خرد برد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔انھیں مستعفی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کا ایک اہم قریبی مصاحب شمار کیا جاتا تھا.انھیں مستعفی صدر کا ممکنہ جانشین بھی خیال کیا جارہا تھا لیکن خود سابق صدر ہی نے انھیں جون 2018ء میں عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

اپریل کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سابق مطلق العنان صدر بوتفلیقہ کے مستعفی ہونے کے بعد سے متعدد سابق سرکاری عہدے داروں کو بدعنوانیوں کے الزام میں حراست میں لیا جاچکاہے۔ملک کے معروف سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات سے بھی گذشتہ دو عشروں کے دوران میں بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے اور انھوں نے اپنی سیاسی اور کاروبار ی سرگرمیاں قریب قریب موقوف کردی ہیں۔

الجزائر میں جن نمایاں شخصیات کو گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں گرفتار کیا گیا ہے،ان میں ملک کی امیر ترین شخصیت ایساد ربراب بھی شامل ہیں۔ ان پر کسٹمز کے جعلی ڈیکلریشن سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات ہیں۔قائم مقام صدر عبدالقادر بن صالح کے حکم پر ملک کی قومی تیل فرم سونا طریش کے سربرہ عبد المومن ولد قدور کو بھی اگلے روز برطرف کردیا گیا ہے ۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ کے بھائی سعید کے قریب سمجھنے جانے والے بااثر قوننیف خاندان کے چار بھائیوں کو گذشتہ اتوار کو حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔ان پر سرکاری ٹھیکوں کو پورا نہ کرنے کا الزام ہے۔

ایک مجسٹریٹ نے موجودہ وزیر خزانہ محمد لوکال اور سابق وزیراعظم احمد او یحییٰ کو سرکاری رقوم کے غلط استعمال کے الزام میں پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا ہے۔گذشتہ ماہ سابق صدر کے ایک اور قریبی تاجر علی حداد کو دو پاسپورٹس کے ذریعے سرحد عبور کرکے پڑوسی ملک تیونس میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان سے غیر معینہ تعداد میں کرنسی بھی برآمد ہوئی تھی۔