سری لنکا : ایسٹر پر بم حملے ،از خود عہدہ نہ چھوڑنے پر پولیس سربراہ معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے ایسٹر پر بم حملوں کو روکنے میں ناکامی اور فرائض سے غفلت برتنے پر سکیورٹی اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے پولیس سربراہ پوجیتھ جیا سندرا کو معطل کردیا ہے اور ان کی جگہ ان کے نائب چندنا وکرما رتنے کو قائم مقام پولیس سربراہ مقرر کیا ہے۔صدر سری سینا نے ملک کے نئے سیکریٹری دفاع کا بھی تقرر کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سری لنکا کے سکیورٹی اداروں نے بیرون ملک سے ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کے حملوں کے بارے میں ملنے والی انٹیلی جنس اطلاعات اور انتباہوں کو نظرانداز کیا تھا اور وہ پیشگی حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہے تھے جس کے نتیجے میں 21 اپریل کو دارالحکومت کولمبو اور دوسرے مقامات پر واقع تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں میں خودکش بم دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں 253 افراد ہلاک اور قریباً 500 زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

ان بم دھماکوں کےبعد پولیس انسپکٹر جنرل پوجیتھ جیاسندرا نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے ا نکار کردیا تھا جس پر صدر سری سینا نے انھیں آج سوموار کے روز معطل کردیا ہے اور ان کی جگہ سینیر ڈپٹی انسپکٹر جنرل چندنا وکرما رتنے کو قائم مقام پولیس سربراہ مقرر کیا ہے۔صدر نے ایک اور حکم کے تحت فوج کے سابق سربراہ شانتھا کوٹے گوڈا کو نیا سیکریٹری دفاع مقرر کیا ہے۔

69 سالہ جنرل کوٹے گوڈا کو دسمبر 2005ء میں اس وقت کے صدر مہندا راجا پکسے نے فوج کی سربراہی سے جبری ریٹائر کردیا تھا۔ان کے پیش رو ہیما سری فرنینڈو گذشتہ جمعرات کو بم دھماکے روکنے میں اپنے ماتحت اداروں کی ناکامی پر عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

سری لنکن صدر کا کہناہے کہ ایک ہمسایہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایسٹر پر بم حملوں سے متعلق 17 روز قبل مختصر جامع تفصیل فراہم کی تھی لیکن مقامی حکام ان حملوں کو روکنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر اقدامات کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں خود ان انٹیلی جنس اطلاعات کے بارے میں اندھیرےمیں رکھا گیا تھا ۔

انھوں نے اس ناکامی کے ذمے دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔ بعض حکومتی عہدے داروں نے تسلیم کیا ہے کہ بعض انٹیلی جنس یونٹوں کے پاس ممکنہ حملوں کی اطلاعات تھیں۔صدر میتھری سری سینا نے ان تباہ کن بم دھماکوں کے دوروز بعد منگل کو ایک نشری بیان میں سکیورٹی فورسز میں رد وبدل کا اعلان کیا تھا اور 24 اپریل کو سیکریٹری دفاع اور قومی پولیس سربراہ کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم مستعفی سیکریٹری دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ایسٹر پر ملک میں خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑا ہے۔ان حملوں میں ان کی ذاتی طور پر تو کوئی کوتاہی یا ناکامی ثابت نہیں ہوتی ہے لیکن وہ اپنی سربراہی میں بعض اداروں کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات پر فعال انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کررہی تھیں اور تمام ایجنسیاں ہی کام کررہی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں