.

امریکا کے دباؤ کے باوجود ایران تیل کی برآمدات جاری رکھے گا: حسن روحانی

امریکا کا ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندی کا فیصلہ غلط ہے، ہم اس کو عملی جامہ پہنانے نہیں دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا کے دباؤ کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھی جائیں گی۔ انھوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی سے نشر کی گئی تقریر میں کہا ہے کہ ’’ امریکا کا ایران کی تیل کی برآمدات کوصفر تک لانے کا فیصلہ بالکل غلط ہے ،یہ ایک نادرست اقدام ہے اور ہم اس کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا :’’آیندہ مہینوں کے دوران میں امریکی خود دیکھیں گے کہ ہم اپنی تیل کی برآمدات کو جاری رکھیں گے۔اگر امریکا ایران کو تیل کی برآمدات سے روکنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اس کو دوسرے طریقے اختیار کرنا ہوں گے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کے اثرات عام ایرانیوں پر مرتب ہورہے ہیں۔

امریکانے 22 اپریل کو کو ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کے اس اعلان کے بعد گذشتہ ہفتے تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نومبر کے بعد پہلی مرتبہ بلند سطح پر جا پہنچی تھیں۔امریکا ایران سے تیل کے درآمدہ کنندہ ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس سے یکم مئی سے خریداری بند کردیں۔

ایران سے تیل کے خریدار آٹھ ممالک میں بھارت ، چین اور ترکی بھی شامل ہیں۔انھیں امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں کے نفاذ کے وقت چھے ماہ کے لیے یکم مئی تک تیل خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ان میں سے پانچ ممالک یونان ، اٹلی ، جاپان ، جنوبی کوریا اور تائیوان نے ایران سے تیل کی خریداری میں پہلے ہی نمایاں کمی کردی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک کو ایران سے بلا روک ٹوک تیل خرید کرنے کی اجازت دی تھی اور انھیں ایران پر عاید کردہ پابندیوں سے مستثنا قرار دیا تھا لیکن اب یکم مئی کے بعد اگر وہ ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں تو پھر وہ بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آجائیں گے۔

ایرانی قیادت نے امریکا کی عاید کردہ ان پابندیوں کو غیر قانونی اور تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا کے خاتمے کو ایک انتقامی اِقدام قرار دیا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کو نشر کردہ ایک تقریر میں کہا تھا : ’’ وہ ( امریکی) یہ خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے ایران کی تیل کی فروخت کو بند کردیا ہے مگرہماری پُرعزم قوم اور چوکس حکام اگر جاں فشانی سے کام کریں تو وہ بہت سے بند راستے کھول لیں گے‘‘۔