.

امریکی استثنا کے خاتمے کے بعد ایران کی جگہ تیل کی مانگ پورا کرنے کو تیار ہیں: خالد الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران سے تیل کے خریدار بعض ممالک کو نومبر میں عاید کردہ پابندیوں میں دی گئی چھوٹ کے خاتمے کے بعد ہم عالمی مارکیٹ میں تیل کے صارفین کی مانگ کو پورا کرنے کو تیار ہیں۔

انھوں نے منگل کے روز روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا سے ایک انٹرویو میں کہا کہ تیل کی پیداوار کی موجودہ سطح کو جون کے بعد بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے اور اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان تیل کی یومیہ پیداوار میں کٹوتی کے سمجھوتے پر عمل درآمد جاری رکھا جاسکتا ہے۔

خالد الفالح نے واضح کیا کہ ’’ ہم عالمی سطح پر تیل کی مانگ کا جائزہ لیں گے۔اگر طلب معمول کی سطح سے کم یا زیادہ ہوتی ہے تو ہم اس کے مطابق پیداوار کی سطح کا بھی تعیّن کریں گے۔موجودہ صورت حال کے پیش نظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک طرح سے کچھ نہ کچھ سمجھوتا کرنا پڑے گا‘‘۔

امریکانے 22 اپریل کو کو ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کے اس اعلان کے بعد گذشتہ ہفتے تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نومبر کے بعد پہلی مرتبہ بلند سطح پر جا پہنچی تھیں۔امریکا ایران سے تیل کے درآمدہ کنندہ ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس سے یکم مئی سے خریداری بند کردیں۔

ایران سے تیل کے خریدار آٹھ ممالک میں بھارت ، چین اور ترکی بھی شامل ہیں۔انھیں امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں کے نفاذ کے وقت چھے ماہ کے لیے تیل خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ان میں سے پانچ ممالک یونان ، اٹلی ، جاپان ، جنوبی کوریا اور تائیوان نے ایران سے تیل کی خریداری میں پہلے ہی نمایاں کمی کردی ہے۔