.

سامر شعبان پر عائد الزام ترکی کی چال بازی ہے : چچا کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں زیر حراست فلسطینی سامر شعبان کے خاندان کا کہنا ہے کہ ترک حکام کی جانب سے سامر پر عائد الزامات محض ترکی کی چال بازیاں ہیں۔ متاثرہ خاندان نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ سامر کو تحفظ فراہم کیا جائے بالخصوص جب کہ ایک دوسرا فلسطینی شہری زکی مبارک ترک حکام کی حراست میں ہلاک ہو چکا ہے۔ ترک حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ فلسطینی شہری زکی مبارک نے "خود کشی" کی۔ زکی کے اہل خانہ نے موت کا اصل سبب جاننے کے لیے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

سامر شعبان کے چچا عبداللہ شعبان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ان کا (40 سالہ) بھتیجا 2007 میں حماس کی جانب سے انقلاب کے بعد غزہ پٹی سے نکل گیا تھا۔ وہ حماس تنظیم کو مطلوب افراد میں شامل تھا۔ اس وقت سامر فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام پولیس کے ادارے میں کام کرتا تھا۔ سامر غزہ سے مصر گیا اور پھر وہاں سے متحدہ عرب امارات پہنچا۔ بعد ازاں سامر نے یورپ ہجرت کے مقصد سے اپنی بیوی اور چار بچوں سمیت ترکی کا رخ کیا۔ اس کے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں اس وقت ترکی کے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں"۔

عبداللہ شعبان نے ترک میڈیا میں زیر گردش خبروں کی تردید کی جس میں کہا گیا کہ سامر شعبان فلسطینی اتھارٹی کے ایک اہم سابق عہدے دار محمد دحلان کے گروپ میں ہے۔ عبداللہ کے مطابق سامر صرف صدر محمود عباس کے پیچھے چلنے والوں میں سے ہے اور اس بات کے مخالف پروپیگنڈا صرف ترکی کی چالبازیاں ہیں۔مر کے چچا نے فلسطینی صدر محمود عباس اور تمام بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ان کے بھتیجے کو تحفظ فراہم کیا جائے کیوں کہ وہ بے قصور ہے۔

سامر شعبان کا باپ سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کے ساتھ شامل جنگجوؤں میں سے تھا۔