.

صبر کی ایک حد ہوتی ہے ، ادلب میں دہشت گردوں کا دائمی وجود قبول نہیں : لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ صبر کی ایک حد ہوتی ہے ، ادلب اور شام کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کا ہمیشہ کے لیے باقی رہنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے یہ بات پیر کے روز بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ابو الکلام عبدالمؤمن کے ساتھ اپنی بات چیت کے اختتام پر کہی۔ لاؤورف کا کہنا تھا کہ "ہم ادلب میں سیف زون میں (النصرہ فرنٹ سے متعلق) مسئلے کے حل کے واسطے روس اور ترکی کے بیچ معاہدے کو یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ جیسا کہ صدر پوتین کہہ چکے ہیں کہ یقینا ہمارے لیے یہ بات قبول کرنا ممکن نہیں کہ یہ دہشت گرد وہاں اس طرح رہیں گویا کہ وہ حیوانی حیات کے ایک قدرتی مقام پر ہوں اور ان کو نقصان پہنچانا جائز نہ ہو"۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت اس بات کا پورا حق رکھتی ہے کہ اپنی اراضی پر موجود شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ،،، اور تمام علاقوں کو دہشت گردی سے پاک کرے۔

لاؤروف کے مطابق انہوں نے عفرین کی دیوار کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ نے باور کرایا ہے کہ شمالی شام میں دہشت گردی کے خلاف اس کے تمام اقدامات عارضی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت دُہرا معیار نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف تو خفیہ جیلوں اور گوانتانامو میں انسداد دہشت گردی کے معاملات اور جبری گرفتاریوں سے نمٹا جا رہا ہے اور دوسری طرف امریکا ،،، سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی حراست میں موجود غیر ملکی جہادیوں کی رہائی کے امکان کی بات کر رہا ہے۔

لاؤروف کے مطابق یورپی ممالک ان مجرموں کو واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں اور یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ممالک عراق کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنے پاس رکھے۔

دوسری جانب شام کے لیے روسی صدر پوتین کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لاؤرنتیف نے واضح کیا ہے کہ شام کا بحران حل کرنے کے لیے نئے خیالات کی ضرورت ہے۔