.

لندن کے باسیوں کو یقینی موت سے بچانے والے قیدی کا انوکھا واقعہ

ایڈی چیپ مین نے دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ اور جرمنی کے درمیان ڈبل ایجنٹ کا کام کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوسری عالمی جنگ کا تصور کرتے ہی ذہن میں ہرطرف تباہی کے مناظر گردش کرنےلگتے ہیں دوسری عالمی جنگ کےموقع پر بعض حیران کن واقعات ایسے بھی رونما ہوئے ناقابل یقین حد تک حیران کن ہیں۔ انہی واقعات میں ایک برطانوی سابق فوجی اور جرائم پیشہ قیدی کاقصہ بھی شامل ہے جس نے برطانیہ اور جرمنی کےدرمیان ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئےلندن کے باسیوں کو یقینی موت اور تباہی سے بچالیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 16 نومبر 1914ء کو پیدا ہونے والے "ایڈی چیپ مین"(Eddie Chapman) نے 17سال کی عمرمیں برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی اور لندن کے ایک ملٹری ٹریننگ سینٹر سے تربیت حاصل کرنے کے بعد لڑاکا فورس میں شامل ہوگیا مگر کچھ ہی عرصہ بعد وہ فوج سے فرار ہوگیا۔ اسے گرفتار کیا گیااور برطانوی فوجی قانون کے تحت اسے قید کی سزا دی گئی۔

ایڈی اپنی سزا پوری کرنے کے بعد رہا ہوا مگر رہائی کے بعد اس نے کوئی اور ڈھنگ کا کام کرنے کے بجائے جرائم پیشہ لوگوں کی صحبت اختیار کی۔

چوری،ڈاکہ زنی اور دھوکہ دہی

جیل سے رہائی کے بعد ایڈی چیپ مین نے جرائم پیشہ لوگوں سے دوستی کی اور لوگوں کو دھوکہ دہی کے ساتھ ساتھ چوری، ڈکیتی اوردیگر جرائم میں حصہ لینا شروع کردیا۔ وہ امراء کے گھروں میں گھس کر لوٹ‌مار کرتا اور جرائم پیشہ مافیا کے لیے کام کرتا۔ سنہ 1939ء میں اسےایک بارپھر گرفتار کرکےجرسی جزیرے کی ایک ساحلی جیل میں قید کردیا گیا۔

جون 1940ء کو یہ جزیرہ جرمن فوج کے قبضے میں آگیا اور جرمن فوج نے جیل موجود قیدیوں جن میں ایڈی بھی شامل تھا کو جرمنی منتقل کردیا۔

برطانوی قانون کے مطابق ایڈی کو اس کے جرائم پر بیس سال قید کی سزا کا امکان تھا مگر اس نے جرمن فوج کو اپنے تعاون کی پیشکش کی اورکہا وہ انہیں برطانیہ میں فوج کی حساس تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔

جرمن جاسوس

ایڈی چیپ مین کی پیش کش کو جرمنی فوج نے سنجیدگی سے لیا اور اسے فوج کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ اسٹیفن ون گروننگ کے سپرد کردیا گیا۔ گروننگ نے اسے بم سازی اور طیاروں سے کودنے کی تربیت فراہم کی۔

دسمبر 1942ء‌کو جرمن انٹیلی جنس حکام نے ایڈی کو اپنے وطن واپس بھیجا اور اسے ھیٹ فیلڈ شہرمیں موجود طیاروں کی ایک فیکٹری کو دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

برطانیہ واپسی پر ایڈی نے ملٹری انٹلی جنس کے حکام سے ملاقات میں انہیں جرمنی میں ہونے والے تمام واقعات اور جرمن انٹیلی جنس اداروں کے لیے ڈبل ایجنٹ کا کردار اد کرنے کی پیشکش کے بارےمیں بھی بتا دیا۔

یوں اس نے برطانوی انٹیلی جنس حکام کو بھی شیشے میں اتار لیا اور ڈبل ایجنٹ کے طورپرکام کرنےکا فیصلہ کیا۔ اس کے کہنے پر برطانوی فوج نے ھیٹ فیلڈمیں طیارہ ساز فیکٹری میں فرضی دھماکہ کیا تاکہ جرمنی خفیہ ادارے ایڈی کودیئے گئے ٹاسک پر اس کی کارروائی پریقین کرسکیں۔

اس فرضی کارروائی پر جرمن انٹیلی جنس نے اس ایڈی پر یقین کرلیا اور اسے صلیب کا تمغہ عطاکیا گیا۔ اسے بھاری رقم انعام میں دی اور مزید کارروائیوں کے لیےایک کشتی مہیا کی گئی۔

لندن کوتباہی سے بچانے کا واقعہ

جون 1944ء کو جرمن فوج نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی ایجنٹ سے اینٹ بجانے کا فیصلہ کیا۔ ان دنوں جرمن فوج ایک نئے اور انتہائی مہلک ہتھیار "V-1 " نامی بم کا استعمال شروع کیا تھا۔ یہ بم جنگی طیاروں کی مدد سے گرایا جاتا۔ اس وقت جرمن فوج کے پاس لندن کو نشانہ بنانے کے لیے ہالینڈ کی سرزمین اور بادکالیہ کے لانچنگ پیڈ کےسوا اس اسلحے کے استعمال کا اور کوئی ذریعہ نہ تھا۔ جرمن فوج نے ایک بار پھر ایڈی چیپ مین کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ایڈی نے جرمن کو دھوکے میں رکھ کر لندن کےویران علاقوں میں V-1 اور V-2میزائلوں سے حملےکرائے جس کے نتیجے میں جرمن فوج کے پاس اسلحہ کاذخیرہ کافی حد تک کم ہوگیا۔ جرمنی فوجی مسلسل ویران علاقوں اور لندن کےکی آبادی والے علاقوں میں بمباری کرتے جس کے نتیجے میں شہر کے باشندے تباہی سےبچ گئے۔

بعض تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق جرمن فوج نے دوسری عالم جنگ کےدوران لندن پر 8000 ہزار بم برسائے جن میں سے بڑی تعداد ویران علاقوں میں گرتی رہی۔ اس طرح ایڈی چیپ مین نے لندن کے باسیوں کو یقینی تباہی اور موت سے بچالیا۔