.

لیبی فوج کی طرابلس کے مرکز کی طرف پیش قدمی، مخالف ملیشیا کا اہم لیڈر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں قومی وفاق حکومت اور اس کی وفادار شدت پسند ملیشیا کے خلاف آپریشن میں اہم پیش رفت آئی ہے۔ لیبی فوج کے بریگیڈ 9 کےکمانڈر نے طرابلس میں مخالف ملیشیا کےاہم کمانڈرمحمود بعیو المعروف کمانڈر 'شری خٰان' اور اس کےکئی ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیبی فوج کے بریگیڈ 9 کے ایک ذریعے نے'العربیہ' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوموار کے روز طرابلس میں ہونے والی ایک جھڑپ میں فوج مخالف ملیشیا کا اہم کمانڈر مارا گیا۔

ادھر لیبی فوج کےترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل خلیفہ حفتر کی فوج نے طرابلس کے قریب کئی اہم مقامات سے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے بعد ان علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اب فوج تیزی کےساتھ شہر کے مرکز کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مصراتہ فورسز نامی ایک عسکری گروپ کےاہم کمانڈر محمود بعیو المعروف شری خان کو طرابلس میں فرجان کے مقام پر ایک جھڑپ میں قتل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ شری خان نامی کمانڈر مصراتۃ شہر کےجنگجوئوں‌کی قیادت کررہا تھا اور اس گروپ میں بیشتر جنگجو اسی شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ تنظیم عالمی سطح پر لیبیا کی تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت کی حمایت میں سرگرم ہے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب جنرل خلیفہ حفتر کی فوج نے طرابلس پر چڑھائی کے لیے پیش قدمی کی۔

لیبی فوج کے ترجمان نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز نے طرابلس کےقریب صلاح الدین کالونی، قصر بن غیشر میں یرموک کیمپ روڈ اور دیگر اہم مقات پرقبضہ کرلیا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق صلاح الدین کےعلاقے سے قومی وفاق حکومت کی حامی فورسز وہاں سے نکل چکی ہیں۔
ادھر لیبی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ طرابلس پرقبضے کے لیے گذشتہ دو روز کے دوران وسیع پیمانے پر بمباری کی گئی ہے۔ بمباری میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کو گرانے اور اس کی حامی عسکری تنظیموں کو شکست دینے کی مہم جاری ہے۔

گذشتہ دو دنوں‌میں طرابلس میں ابو سلیم علاقے میں النواصی بریگیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کیمپ دارالحکومت کے وسط سےسات کلو میٹر دور ہے۔

اس کے علاوہ لیبی فوج نے الفرجان، عین زارہ، التویشہ اور جنوبی طرابلس کے کئی مقامات پر قومی حکومت کے ٹھکانوں‌پر بمباری کی۔