ترکی نے واشنگٹن کو "الاخوان" کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر جلیک کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے الاخوان المسلمین جماعت کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ مشرق وسطی میں جمہوری تبدیلی کے مطالبات کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہو گی۔

جلیک کے مطابق اس فیصلے کے نتائج مغرب میں اسلام مخالف جذبات میں اضافہ کریں گے اور دیگر علاقوں میں بھی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے موقف کو مضبوط بنائیں گے۔

اس سے قبل وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "صدر ( ٹرمپ) نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم اور خطے میں اپنے ہم خیال رہ نماؤں سے اس موضوع پر مشاورت کی ہے۔ اب الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے داخلی سطح پر کام جاری ہے"۔

سارہ سینڈرز نے'العربیہ' نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سیکیورٹی اسٹاف کے ساتھ الاخوان المسلمون کو منطقی طور پر ایک دہشت گرد گروہ قرار دینے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے منگل کے روز شائع ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ "مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 9 اپریل کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا"۔

فیصلے کا مقصد الاخوان سے متعلق کمپنیوں اور افراد پر وسیع اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے۔

اخبار نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس خیال کے حامی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں