قضیہ فلسطین کا منصفانہ حل سعودی عرب کی اولین ترجیح میں شامل ہے: المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کےسفیر عبداللہ بن یحییٰ المعلمی نے سلامتی کونسل کےاجلاس میں فلسطینی قوم کے دیرینہ اور اصولی مطالبات کا پوری جرات کےساتھ مقدمہ لڑتےہوئےکہاہےکہ تنازع فلسطین کا منصفانہ اور دیر پاحل سعودی عرب کی اولین ترجیح ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق منگل کےروز نیویارک میں سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے خصوصی اجلاس سے خطاب میں سعودی سفیرکاکہنا تھا کہ ان کا ملک ایسا کوئی امن فارمولہ قبول نہیں کرے گا جس میں چار جون 1967ء کی جنگ کےبعد اسرائیلی تسلط میں آنے والےعلاقوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کی نفی کی گئی ہو۔

سعودی سفیرنے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہداء اور اسیران کےلواحقین کو ملنے والی رقوم بند کرنے اور فلسطینی اراضی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید مذمت کی۔ المعلمی کا کہنا تھاکہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر اور مقدس مقامات کی بےحرمتی بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کو عالمی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہوتا دیکھنا چاتا ہے۔ ہم القدس شریف کے عرب، اسلامی اور مسیحی تشخص پر آنچ نہیں آنےدیں گے۔ اسرائیل کو تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے اپنا تسلط ختم کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے اسرائیل کی طرف سے شام کے وادی گولان کےعلاقے پرقبضہ مضبوط کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 242مجریہ 1967 اور قرارداد 497 مجریہ 1981ء میں وادی گولان پر اسرائیلی قبضہ باطل اورناجائز قراردیا گیا ہے۔ امریکا کی طرف سے وادی گولان پراسرائیلی عمل داری تسلیم کرنے سے تاریخی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ سعودی عرب وادی گولان کو شام کی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں