.

خرطوم :وزارتِ دفاع کے باہر ہزاروں سوڈانیوں کا احتجاجی دھرنا ، سول حکومت کے قیام کا مطالبہ

اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی نے حکمراں عبوری فوجی کونسل کو نئی سول انتظامیہ کی تشکیل کے لیے تجاویز پیش کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں وزارت ِدفاع کے باہر جاری احتجاجی دھرنے میں جمعرات کو مزید ہزاروں افراد شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ ملک کی حکمراں عبوری فوجی کونسل سے فوری طور پر اقتدار ایک شہری حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی نے عوام سے خرطوم میں جاری احتجاجی دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔اس اتحاد میں حزبِ اختلاف کے گروپ اور کارکنان شامل ہیں ۔یہ اتحاد عمر البشیر کو معزول کرنے والی عبوری فوجی کونسل سے شہریوں کو بھی شریکِ اقتدار کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

مظاہرین کے لیڈروں نے آج فوجی کونسل کو نئے سول ڈھانچے کے بارے میں بعض تجاویز پیش کی ہیں ۔احتجاجی تحریک کے ایک لیڈر سطیح الحاج نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری سول حکومت میں سترہ وزراء شامل ہونے چاہییں جبکہ قانون ساز ادارے کے ارکان کی تعداد 120 سے 150 تک ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اتحاد اب فوجی کونسل سے اس تجویز پر آیندہ 48 سے 72 گھنٹے میں جواب کا منتظر ہے۔

احتجاجی تحریک کے لیڈر اس بات پر بھی اصرار کررہے ہیں کہ شہری انتظامیہ میں عمر البشیر کے دورِ اقتدار میں خرطوم کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے مسلح گروپوں کے نمایندوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی میں ایسے تین مسلح گروپ شامل ہیں۔

اتحاد کے ایک اور لیڈر خالد عمر یوسف کا کہنا ہے کہ ’’ مسلح گروپوں کے نمایندوں کی موجودگی کے بغیر ہم عبوری سول ڈھانچا تشکیل نہیں دے سکیں گے‘‘ لیکن انھوں نے ایسے کسی خاص گروپ کا نام نہیں لیا ہے جس کو ان کے بہ قول شریک اقتدار کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ 2003ء میں سوڈان کے تین علاقوں دارفور ، جنوبی کردوفان اور نیلا نیل میں مقامی مسلح گروپوں نے معزول صدر عمر حسن البشیر کے زیر قیادت خرطوم کی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کردی تھی اور ان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کئی سال تک لڑائی جاری رہی تھی۔اس لڑائی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

تاہم حالیہ برسوں کے دوران میں ان مسلح گروپوں اور بشیر حکومت کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے طے پا گئے تھے جس کے بعد لڑائی کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا مگر ان گروپوں سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کو سابق انتظامیہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور وہ اب مذکورہ علاقوں میں کریک ڈاؤن کارروائیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ملکی قانون کی پامالی پر سابق اربابِ اقتدار کے احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں۔