.

ایران ’گرے مارکیٹ‘ میں تیل کی فروخت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے: نائب وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران امریکا کی ’ غیر قانونی‘ پابندیوں سے بچنے کے لیے ’’گرے مارکیٹ‘‘ میں تیل فروخت کرنے کی غرض سے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے۔یہ بات ایران کے نائب وزیر برائے تیل امیر حسین زماننیہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق نائب وزیر نے کہا :’’ ہم نے تمام ملکی وسائل کو متحرک کیا ہے اور ’گرے مارکیٹ‘ میں تیل فروخت کررہے ہیں‘‘ مگر انھوں نے اس گرے مارکیٹ سے متعلق مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

البتہ ایران کے بارے میں ماضی میں یہ اطلاعات منظرعام پر آتی رہی ہیں کہ وہ گذشتہ عشرے میں پابندیوں کے دوران میں رعایتی نرخوں پر اور نجی فرموں کے ذریعے تیل فروخت کرتا رہا ہے۔

امیر حسین زماننیہ نے کہا کہ ’’ ہم یقینی طور پر جوہری سمجھوتے کے تحت یومیہ 25 لاکھ بیرل تک تیل فروخت تو نہیں کریں گے۔ہمیں اپنے مالیاتی اور اقتصادی انتظام سے متعلق سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے اور حکومت اس پر کام کررہی ہے ‘‘ ۔

ان کا یہ موقف تھا کہ ’’ تیل کی اس طرح گرے مارکیٹ میں فروخت کوئی اسمگلنگ نہیں ہے بلکہ یہ پابندیوں کا توڑ ہے کیونکہ ہم ان پابندیوں کو جائز یا قانونی نہیں سمجھتے ہیں‘‘۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ایران اس طرح کتنی مقدار میں تیل فروخت یا برآمد کررہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکانے 22 اپریل کو ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے حاصل استثنا ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ اس نے ایران سے تیل کے درآمدہ کنندہ ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ یکم مئی سے اس سے خریداری بند کردیں ، ورنہ وہ بھی پابندیوں کی زد میں آجائیں گے۔

ایران سے تیل کے خریدار آٹھ ممالک میں بھارت ، چین اور ترکی بھی شامل ہیں۔انھیں امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کرتے وقت چھے ماہ کے لیے تیل خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ان میں سے پانچ ممالک یونان ، اٹلی ، جاپان ، جنوبی کوریا اور تائیوان ایران سے تیل کی خریداری میں پہلے ہی نمایاں کمی کرچکے ہیں۔