.

نکولس میڈورو کے شامی نژاد دست راس "العسیمی" کے حزب اللہ اور ایران سے خفیہ تعلقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے انکشاف کیا ہے کہ اسے وینزویلا کے انٹیلی جنس ادارے کے منحرف ذرائع سے خفیہ دستاویزات حاصل ہوئی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کے شامی نژاد سابق نائب طارق العيسمی ملک میں عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن مہم میں شریک رہے۔ العیسمی اس وقت وزیر صنعت کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔

دستاویزات سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ العیسمی نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی حکمراں نظام کے اداروں کے لیے جاسوسی، منی لانڈرنگ اور منشیات کی تجارت کی کارروائیوں میں بھی کردار ادا کیا۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکومتی ڈیٹا اور وینزویلا کی حاصل شدہ انٹیلی جنس دستاویزات کے حوالے سے بتایا ہے کہ وینزویلا کے انٹیلی جنس اداروں نے العیسمی کے جرائم کی دنیا سے تعلق کے حوالے سے میڈورو کے صدر کے سابق نائب کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی ہیں۔

رواں سال مارچ میں امریکی حکومت نے مطالبہ کیا تھا کہ العیسمی کو نیویارک میں عدالت کے حوالے کیا جائے تا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون اور منشیات سے متعلق ٹولیوں کے ساتھ رابطے کے حوالے سے الزامات کا جواب حاصل کیا جا سکے۔ میڈورو حکومت نے العیسمی پر عائد الزامات کو ٹرمپ انتظامیہ کا پروپیگنڈا قرار دیا تا کہ وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت کو گرایا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق طارق العیسمی کے باپ کارلوس زیدان العیسمی نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ وہ وینزویلا میں موجود حزب اللہ کی فورسز کو جاسوسی اور اسمگلنگ کی تربیت کا ذمے دار تھا۔

اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ طارق العیسمی کا بھائی فراس ،،، العیسمی خاندان اور وینزویلا میں منشیات کے ایک تاجر ولید مقلد کے درمیان رابطے کا کام انجام دیتا تھا۔ وینزویلا کی دستاویزات کے مطابق فراس کے سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 4.5 کروڑ ڈالر کی رقم موجود ہے۔

دستاویزات اس جانب اشارہ بھی کرتی ہیں کہ اگرچہ وینزویلا میں اکثر شہری انتہائی درجے کی غربت کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے گھر والوں کو خوراک بھی فراہم نہیں کر سکتے تاہم اس عرصے میں العیسمی خاندان ملک کا ایک مال دار ترین خاندان بن گیا۔ میڈورو سے قبل مذکورہ خاندان کا وینزویلا کے آنجہانی صدر ہوگو شاویز کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔

دوسری جانب "وائس آف امریکا" نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ ایران نے نکولس میڈورو کی سپورٹ کے لیے وینزویلا میں ملیشیا تشکیل دی تھی۔ یہ فورس سڑکوں پر عوامی احتجاج کے مقابل طاقت کے زور پر میڈورو کے اقتدار کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے لبنانی تنظیم حزب الله نے مذکورہ ملیشیا کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا اور انہیں تربیت اور لوجسٹک سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔

وائس آف امریکا (وی او اے) نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وینزویلا میں میڈورو حکومت کے سینئر ذمے داران کے لبنانی ملیشیا "حزب الله" کے ساتھ انتہائی قریبی روابط ہیں۔ حزب اللہ کو امریکا اور دیگر کئی ممالک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

وی او اے کے مطابق طارق العیسمی نے گزشتہ ماہ شام میں بشار الاسد سے ملاقات کی تھی۔

شامی نژاد العیسمی نے گزشتہ برس میڈورو کے خلاف انقلاب کو ناکام بنانے کے سلسلے میں اُس وقت اہم کردار ادا کیا تھا جب اس نے وینزویلا کی فوج کے تقریبا 100 افسران کی گرفتاری کا حکم دیا۔ العیسمی نے اپوزیشن کو خاموش کرنے کے لیے نیم سرکاری "گروپ" بنائے اور ان کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھی کیا۔

واشنگٹن میں سیاسی تجزیہ کار جیمز ہومر کہتے ہیں کہ "وینزویلا میں سیکورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے میں ایران بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے"۔

امریکی کانگریس کے آخری اجلاس میں ہومر نے وینزویلا کے 2000 سے زیادہ پاسپورٹس کی فہرست پیش کی جو ایران نواز حزب اللہ ، حماس اور دیگر اسلامی جماعتوں کے مشتبہ ارکان کو جاری کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ ایران نے روس، کیوبا اور ترکی کے ساتھ مل کر اعلان کیا تھا کہ وہ میڈورو کو سپورٹ کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ نے رواں سال فروری میں میڈورو کی حکومت پر سے اعتماد ختم کر کے اسے مزید تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔