قبرصی فوجی افسر 7 خواتین کے قتل اورآبرو ریزی کے الزام میں عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قبرصی فوج کے ایک سینیر افسر کو تین سال کے دوران 7 غیر ملکی خواتین کے قتل اور ایک کم عمر لڑکی کی آبرو ریزی کے الزامات کے تحت گذشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق 35 سالہ کیپٹن نیکوس میٹاکسس پر قتل کے واقعات میں باضابطہ طور پر فرد جرم عاید نہیں کی گئی تاہم اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد قبرصی صدر نے اس کا نوٹس لیا ہے اورعوامی غم وغصے کے بعد انہوں‌ نے کسی فوجی افسر کی طرف سےغیر ملکی خواتین کے قتل کے واقعات کو پولیس کی ناکامی قرار دیا۔

اتوار کے روز کیس کی سماعت کے موقع 18 اپریل سے گرفتار ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 8 دن کا اضافہ کیا گیا۔ ایک تفتیش کار نیوفیٹوس شایلوس نے نیقوسیا میں عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک 19 سالہ فلپائنی لڑکی نے میٹاکساس کے خلاف ریپ کا الزام عاید کیا تھا۔

دوسری طرف پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ملزم نے عصمت ریزی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم شایلوس کا کہنا تھا کہ مدعیہ نے بتایا کہ وہ 2016ء سے انٹرنیٹ‌ کے ذریعے ملزم سے رابطے میں‌ تھی۔ ملزم نے اسے ایک ملازمت کی بھی پیشکش کی تھی۔ میٹاکساس کی پیشی کے موقع پر اس کا کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔ جج نے اس کی حراست میں آٹھ دن کا مزید اضافہ کرنے کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف اب تک 350 لوگوں کی شکایات جمع ہو چکی ہیں۔ میٹاکساس کو اپریل کے وسط میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک فلپائنی سیاح خاتون 38 سالہ ماریروعز ٹیپورسیو کی قبرص سے لاش ملی تھی۔ تحقیق کرنے پر پتا چلا تھا کہ اسے ایک فوجی افسر نے قتل کیا تھا۔ اس کے چند روز بعد 28 سالہ آریان پالاناس لوزانو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا تاہم سرکاری طور پر مقتول خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں