ایران نے جوہری ڈیل سے روگردانی کی تو نتائج بھگتنا پڑیں گے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران عالمی طاقتوں سے طے شدہ سمجھوتے سے پھِر جاتا ہے تو اس کو نتائج وعواقب بھگتنا پڑیں گے۔ ایران نے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت اپنے جوہری پروگرام پر عاید کردہ بعض قدغنوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے ردعمل میں برطانوی دفتر خارجہ کے نائب وزیر مارک فیلڈ نے دارالعوام میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ایران کے آج ( بدھ) کے اعلان کا خیرمقدم نہیں کیا جا سکتا۔اس مرحلے پر ہم پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی تو بات نہیں کررہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ پابندیاں جوہری قدغنوں کے تبادلے ہی میں ہٹائی گئی تھیں‘‘۔

جوہری سمجھوتے سے امریکا کے انخلا کے ایک سال بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔وہ بظاہر فی الوقت جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کے تو مظہر نہیں ہیں لیکن مستقبل میں اگر ایران ان اقدامات پر عمل درآمد کرتا ہے تو یہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی پر محمول کیے جاسکتے ہیں۔

مارک فیلڈ نے واضح کیا کہ ’’اگر ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کے یقینی طور پر مضمرات ہوسکتے ہیں‘‘۔

دریں اثناء جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایران سے کاروبا ر کے لیے خصوصی نظام (اسپیشل پرپز وہیکل ) کی تشکیل پر توقع سے زیادہ وقت صرف ہورہا ہے۔

ترجمان اسٹیفن سیبرٹ نے معمول کی نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ اس وقت اس کارپوریشن کے کام کے آغاز کے لیے حتمی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے تحت ایران کو اپنے حصے کی ضروری تیاری بھی کرنا ہوگی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں