.

ایران کی جوہری سمجھوتے سے جزوی دستبرداری قانونی ہے: جواد ظریف کی لاروف سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی چھے عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے رضا کارانہ طور پر جزوی دستبرداری قانونی ہے۔

جواد ظریف نے ماسکو میں روسی وزیرخارجہ سے ملاقات میں جوہری سمجھوتے سے جزوی دستبرداری اور عالمی طاقتوں کے ردعمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کے اقدامات سے جوہری سمجھوتے کی اصل شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے اور ایران کو اب 60 روز میں ضروری سفارتی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایران نے قبل ازیں آج بدھ کو 2015ء میں عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت اپنے جوہری پروگرام پر عاید بعض قدغنوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے اس کو امریکا کی پابندیوں سے تحفظ مہیا نہیں کیا تو وہ یورنیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کرنے سمیت مزید بھی اقدامات کرے گا۔

روس کا امریکا پر الزام

روس نے امریکا کو ایران کے اس فیصلے کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اورا س کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ایران جوہری سمجھوتے کی بعض پابندیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسیکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ صدر ولادی میر پوتین متعدد مرتبہ ایران کے حوالے سے بلا سوچے سمجھے اقدامات کے مضمرات سے خبردار کرچکے ہیں ۔ان سے میری مراد امریکا کا گذشتہ سال جوہری سمجھوتے سے یک طور پر دستبردار ی کا فیصلہ تھا۔اب ہم ان مضمرات کو وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں‘‘۔

مسٹر پیسکوف جب یہ گفتگو کررہے تھے ، عین اس وقت جواد ظریف اور وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان ملاقات جاری تھی۔ان کا کہنا تھا کہ روس جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس کے سفارت کار اس ضمن میں سمجھوتے کو بچانے کے لیے یورپی حکام سے پس پردہ ر ہ کر بات چیت کرتے رہے ہیں ۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر دوسرے ممالک جوہری سمجھوتے سے جزوی دستبرداری پر ایران کے خلاف پابندیاں عاید کرتے ہیں تو کیا روس بھی ان کا ساتھ دے گا؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’ اس وقت تو ہمیں ٹھنڈے دل ودماغ سے صورت حال کا تجزیہ کرنے اور اس پر تبادلہ خیال کی ضرورت ہے ۔اس وقت ہمیں ایک سنگین صورت حال کا سامنا ہے‘‘۔