'نیو سلک روڈ' امریکا اور چین میں تجارتی جنگ کا سبب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چین کی جانب اپنی مصنوعات چار دانگ عالم میں پہنچانے کے لیے چینی حکومت کئی منصوبوں پرعمل پیرا ہے۔ انہی منصوبوں میں'نیو سلک روڈ' کا منصوبہ عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ میکسیکو کے ایک موقر اخبار'کرونیکا دی چیوائوا' نے چین کے 'سلک روڈ' منصوبے کی بیجنگ کے لیے تجارتی افادیت اور اس کے عالمی معیشت بالخصوص امریکی معاشی غلبے کے پر سیر حاصل بحث‌کی ہے۔

اخبارنے اپنی رپورٹ میں‌بتایا ہے کہ چین کا سلک روڈ کا نیا منصوبہ اپنی جگہ مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک سو قبل مسیح سے 14 ویں صدی تک چین کی طرف سے 'سلک روڈ' کے نام سے ایک تجارتی شاہراہ قائم کی گئی۔ یہ تجارتی راستہ چین سے منگولیا، ہندوستان، ایران، جزیرہ نما عرب، شام اور ترکی کے راستے یورپ تک جا پہنچتا۔ اس راستے سے چینی مصنوعات یورپ اور یورپ کی چین تک لائی جاتی۔ یہ سڑک چین سے یورپ تک کے ممالک میں ڈیڑھ ہزار سال تک خوش حالی کا دور دورہ رہا۔ یورپی لوگ اس راستے سے چین آتے اورچینی مصنوعات سےمتاثر ہوتے۔ جس طرح وہ مارکوپولوکے سفرناموں سے متاثر ہوتے اس طرح چین کے سفر سے بھی لطف اندوز ہوتے۔

مگر چین کا یہ پرانا سلک روڈ منگول بادشاہت کےتتر بتر ہونے اور چینگیز خان کی ہلاکت کےبعد بند ہوگیا۔ منگول شہنشاہیت کے خاتمے سے ایشیا میں ہرطرف سیاسی بد نظمی پھیل گئی جس کے نتیجے میں چین کا سلک روڈ بھی متاثر ہوا۔ 700 سال بعد آج ایک بار پھرچین نے پرانے سلک روڈ کوایک نئی شکل دی ہے۔

سنہہ 3013ء میں چینی صدر شی جن پنگ نے چین سے یورپ اوروسطی ایشیائی ریاستوں کو ملانےوالے'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے کا ویژن پیش کیا۔ بعد ازاں اسی پروجیکٹ کو پرانے تجارتی راستے کی نسبت سے 'نیوسلک روڈ' کا نام دیا گیا۔

سلک روڈ منصوبے کے اہداف کسی سے ڈھکے چھپےنہیں۔ چین عالمی سطح پر اپنا تجارتی اثرو نفوذ بڑھانےکے لیے سلک روڈ منصوبے کو استعمال کرے گا چین کی حالیہ عرصے کے دوران معاشی اور صنعتی ترقی نے دنیا کے دور دراز علاقوں تک رسائی کی راہ ہموار کی۔ اس وقت چین تجارتی ، معاشی اور صنعتی میدان میں امریکا کے مد مقابل ہے۔نیو سلک روڈ منصوبے سے نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امریکی معاشی غلبے کے خلاف چین ایک مضبوط حریف کے طورپرسامنےآئے گا۔

نئے روڈ پروجیکٹ کےذریعے چین ایشیائی، افریقی اوریورپی ممکالک کو ایک لڑی میں پرو دے گا۔ امریکا کے لیے چین کے اس تجارتی منصوبے کی وجہ سے ایک پریشانی یہ بھی ہےکہ لاطینی امریکا کے ممالک نے بھی اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

پچیس 26 اور 27 اپریل کو بیجنگ میں نیو سلک روڈ پروجیکٹ کےحوالے سے دوسری کانگرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانگرنس میں امریکا، سمیت 150 ملکوں کے مندوبین، عالمی مانیٹری فنڈ'آئی ایم ایف' کے نمائندوں اور 37 ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ ان میں چلی، یورا گوائے، اکواڈورم وینز ویلا، بولیویا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور پیرو کے سربراہ شامل تھے۔

چین اور لاطینی امریکا کے ممالک تجارتی تعلقات نئے نہیں اور نہ ہی وہ سلک روڈ سے منسلک ہیں۔ امریکا کے بعد لاطینی امریکاکے خطے میں چین دوسرا اہم ملک بن چکا ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ کانفرنس میں لاطینی ممالک کے سربراہان کی شرکت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں چین پوری دنیا میں امریکا کا تجارتی اور معاشی میدان میں سب سےبڑا حریف بن کر ابھرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں