سحری میں خشک میوہ جات کھائیں ، روزے میں بھوک کا احساس مٹائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماہ رمضان میں روزے داروں کی بڑی تعداد اپنی غذا میں خشک میوہ جات کو شامل کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے کیوں کہ یہ جسم کے لیے مفید ریشے اور معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔

اکثر میوہ جات ایسے روزے داروں کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں جو رمضان میں بھوک کے احساس کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ بھوک کے مقابل معدے کی مدافعت میں معاون ثابت ہوتے ہیں لہذا ان کو سحری میں کھانا مناسب ہے۔

مدد گار ثابت ہونے والے ان میوہ جات میں پستہ بھی ہے جو پوٹیشیم، فاسفورس، میگنیشیم اور غذائی ریشے کا بھرپور ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں سوڈیم کی بہت تھوڑی مقدار ہوتی ہے جو بلند فشار خون کے مریضوں کے لیے مناسب ہوتی ہے۔ اسی طرح پستے میں گلوکوز بہت کم ہوتا ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک اچھا آپشن بنا دیتا ہے۔ پستے میں امائنو ایسڈز کے علاوہ مختلف نوعیت کے اینٹی آکسائیڈز بھی پائے جاتے ہیں جو دل اور شریانوں کو صحت مند رکھنے کے لیے مفید ہیں۔

جہاں تک حراروں کو تعلق ہے تو تیس گرام (مٹھی بھر) پستوں میں 160 حرارے ہوتے ہیں۔

اسی طرح بادام بھی نہایت مفید میوہ جات میں سے ہے۔ یہ دل کے دورے کے امکان کو کم کرتا ہے اور خون میں ضرر رساں کولسٹرول کا تناسب بھی کم کرتا ہے۔ بادام دل کی شریانوں میں خون جمع ہونے سے روکتا ہے اور ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد گار ہوتا ہے۔

جہاں تک اس کے حراروں کی بات ہے تو تیس گرام (مٹھی بھر) باداموں میں 165 حرارے ہوتے ہیں۔

میوہ جات میں چلغوزہ توانائی کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ یہ وٹامن A سے بھرپور ہوتا ہے جو نظر کے لیے مفید ہے۔ اسی طرح چلغوزہ دل کے لیے لیے مفید روغنیات پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔ یہ وٹامن C کے سبب انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ چلغوزہ فولاد سے بھرپور ہوتا ہے جو انسان کے اعصابی نظام کے لیے مفید ہے۔

چلغوزے میں حراروں کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے تیس گرام (مٹھی بھر) میں 190 حرارے ہوتے ہیں۔

غذائی ماہرین غیر نمکین میوہ جات کی اقسام اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے کھانے میں اعتدال کا راستہ اپنانا چاہیے کیوں کہ ان میں حراروں کی تعداد بلند ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں