اقوام متحدہ کا سوڈان میں اقتدار کی پُر امن منتقلی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے سوڈان میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقتدار کی پُر امن منتقلی کو یقینی بنانے کے واسطے کام کریں تا کہ جمہوریت ، گڈ گورننس اور ترقی کے حوالے سے عوام کی امیدوں کو پورا کیا جا سکے۔

نیویارک میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں فرحان نے کہا کہ اقوام متحدہ تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مذکورہ مرحلے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جامع بات چیت کریں۔

ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشیر نکولس ہیزوم نے بدھ کے روز سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عبوری عسکری کونسل کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہیزوم کا فریڈم اینڈ چینج ڈیکلریشن فورسز کے ساتھ ملاپ کا مقصد شہری قیادت میں عبوری مرحلے کی کارروائی کو کامیابی سے انجام تک پہنچانا ہے۔

اپوزیشن جماعت فریڈم اینڈ چینج فورسز نے فوج کی جانب سے اقتدار کی منتقلی معطل کرنے کے جواب میں بدھ کے روز سول نافرمانی کی دھمکی دی تھی۔

اپوزیشن قیادت کی جانب سے باور کرایا گیا ہے کہ "شہری حکومت کی جانب منتقلی کے حوالے سے انقلاب نے ابھی تک اپنے مقاصد کو یقینی نہیں بنایا"۔ قیادت کا کہنا ہے کہ تحریک کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پُر امن مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جانب امریکا نے سوڈانی عسکری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان پر دباؤ ڈالا ہے تا کہ وہ احتجاج کنندگان کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیر خارجہ جان سولیون نے ٹیلی فون پر جنرل البرہان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ بات چیت میں سولیون نے آزاد، جمہوری اور تابناک مستقبل کی خاطر سوڈانی عوام کی توقعات کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

اسی طرح امریکی نائب وزیر خارجہ نے البرہان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زور دیا کہ شہریوں کے زیر قیادت عبوری حکومت تشکیل دینے کے سلسلے میں حرکت کو تیز کیا جائے اور "فریڈم اینڈ چینج" فورسز کے ساتھ اتفاق رائے کو ممکن بنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں