.

چینی مصنوعات پر امریکی کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ آج سے نافذ العمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی 200 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس آج جمعے کے روز سے عائد کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گا جب کہ فریقین دو طرفہ تجارتی معاہدے کو بچانے کی کوشش میں بات چیت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیکس میں اضافے کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ لہذا امریکی کسٹم حکام نے چین سے امریکا آنے والے سامان (جو ٹیکس اضافے کی مد میں آتا ہے) کی کھیپ پر جمعے کے روز سے کسٹم ڈیوٹی 10% سے بڑھا کر 25% کر دی ہے۔

امریکی کسٹمز اتھارٹی کی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں جو سامان چینی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے جمعے شب سے پہلے روانہ ہو چکا ہے اس پر پرانی شرح سے 10% ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

واشنگٹن اور چین کے درمیان مذاکرات کو گزشتہ ہفتے اس وقت شدید دھچکا لگا جب چین کی جانب سے معاہدے کے مسودے میں ترامیم کی گئیں اور اس نے تجارتی اصلاح سے متعلق امریکی مطالبات کی پاسداری کو کم کر دیا۔

امریکا اور چین کے درمیان دس ماہ سے جاری تجارتی جنگ کے سبب دونوں ملکوں کی کمپنیوں کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہو چکا ہے۔

اس سلسلے میں چینی نائب وزیراعظم، امریکی تجارتی ایلچی اور امریکی وزیر خزانہ کے درمیان جمعرات کے روز 90 منٹ کی بات چیت ہوئی۔ تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

ادھر امریکا نے جمعرات کے روز چین کی معروف سرکاری موبائل کمپنی "چائنا موبائل" کو امریکی منڈی میں کام کرنے اور بین الاقوامی رابطوں کی خدمات فراہم کرنے سے روک دیا۔ اس سلسلے میں جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے چینی حکومت کی ماتحتی امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ فیصلہ چین کی اس ضخیم ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کی جانب سے آخری 8 برسوں سے جاری امریکی منڈی میں داخل ہونے کی کوششوں پر کاری ضرب ہے۔