.

الجزائر: مظاہرین نے بوتفلیقہ کی باقیات کی زیرنگرانی انتخابات مسترد کردیے

مسلسل 12 ویں ہفتے الجزائر کی سڑکوں پراحتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گرم موسم اور ماہ صیام کے باوجود الجزائر کی سڑکوں پر مسلسل 12ویں جمعہ کو عوام کی بڑی تعداد نے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کےحامیوں کی اقتدار سے علاحدگی کےلیےمظاہرے کیے۔مظاہرین نے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح وزیراعظم نورالدین بدوی سمیت سابق صدر کے تمام مقربین کو اقتدار سےہٹانے کامطالبہ کیا۔ بارہ ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک کےحامیوں‌نے کہا ہے کہ وہ صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ اور ان کے مقربین کی موجودگی میں انتخابات قبول نہیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق شدید گرمی اور روزے کی حالت میں بھی الجزائر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے حکومت کی مکمل تبدیلی کے لیے ہونے والی ریلیوں میں شرکت کی۔ بعض مظاہرین نے اسے'جمعہ استقامت' کا نام دیا اور کہا ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے ہیں۔ جب تک تمام کرپٹ عناصر کا محاسبہ اور لوٹی گئی تمام دولت واپس نہیں لائی جاتی احتجاج کا سلسلہ جاری رہےگا۔

کل جمعہ کو دارالحکومت الجزائر کے مرکزی البریداسکوائرمیں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے حکومت میں شامل عبدالعزیز بوتفلیقہ کے مقرب عناصر کو بے دخل کرنے کامطالبہ کیا۔

الجزائر میں یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دوسری جانب لیبرپارٹی کی سیکرٹری جنرل لویزہ حنون کو فوج اور ریاست کے خلاف سازش کیس میں‌ملوث ہونے کے شبے میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔پولیس نے سابق صدر کےبھائی سعید بوتفلقیہ انٹیلی جنس ادارے کے دو سینیر افسران کو ملک کے خلاف سازش کے الزام میں حراست میں لےکران سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

الجزائر میں جمعہ کے روز ہونے والے احتجاج میں پہلی بار فوجی سیکیورٹی اہلکاروں‌ کو غائب پایا گیا تاہم مظاہرین کےدرمیان سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں‌کی بڑی تعداد موجود تھی۔