.

طیارہ بردار بحری بیڑے کو آبنائے ہُرمز میں بھی بھیج سکتے ہیں: امریکی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ اوسط میں امریکا کی بحری افواج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران سے کوئی خطرہ درپیش ہوا تو وہ اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے کو آبنائے ہُرمز کی جانب بھیجنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

یہ بات امریکی بحریہ کے بحرین میں لنگرانداز پانچویں بیڑے کے کمانڈر وائس ایڈمرل جیم میلوئے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے ایک انٹرویو میں کہی ہے ۔البتہ انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آیا وہ خطے میں بھیجے گئے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو آبنائے ہرمز کی جانب بھیجیں گے۔دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی اہم آبی گذرگاہ سے ہو کر جاتا ہے۔

جیم میلوئے نے کہا کہ ’’ اگر مجھے ضرورت پیش آئی تو میں طیارہ بردار بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل کرنے سے گریز نہیں کروں گا ۔اس ضمن میں مجھ پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے ،مشرقِ اوسط بھر میں کہیں بھی اس کو لے جانے کے لیے مجھے کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے‘‘۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی محدود پیمانے پر ان جنگی تیاریوں کو مسترد کردیا ہے اور انھیں ’’ جعلی انٹیلی جنس‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اس کو امریکا کی خطے میں تعینات افواج اور مفادات پر ایران کی ممکنہ حملوں کے لیے تیاری سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھیں اور اس کے بعد ہی اس نے ابراہام لنکن جہاز کو خطے کی جانب روانہ کیا تھا۔

بعض امریکی عہدے داروں کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ انھیں ایران کے میزائلوں کو کشتیوں پر لادنے کی انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھی اور ان میزائلوں کو چھوٹے بحری جہازوں سے بھی چلایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ عراق میں ایران نواز ایک شیعہ جنگجو تنظیم نے بھی امریکا کو دھمکیاں دی ہیں۔

تاہم وائس ایڈمرل میلوئے نے اپنے اس انٹرویو میں ان انٹیلی جنس اطلاعات سے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے میزائلوں کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’یہ ممکنہ طورپرایران کی جانب ایک نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی کارروائی ہوسکتی ہے اور یہ ہتھیار اپنی نوعیت کے اعتبار سے تباہی پھیلانے والے اور جارحانہ ہیں‘‘۔

امریکا نے ایران کے کسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کے علاوہ بی 52 بمبار طیارے بھی بھیجے ہیں اور وہ خطے میں پیٹریاٹ میزائلوں کی دوبارہ تنصیب ہر بھی غور کررہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس جان بوجھ کر ایران کو اشتعال دلا رہا ہے اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز اور لڑاکا طیارے بھیجنے کا ا علان وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کیا تھا جو خود ایران مخالفت میں پیش پیش ہیں اور ایران کے بارے میں ایک سخت مؤقف کے حامی ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ’’ ٹرمپ انتظامیہ ہمیں ایک غیر ضروری جنگ میں الجھا رہی ہے‘‘۔ تاہم وائس ایڈمرل میلوئے کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں اور نہ انھیں ایسا کوئی مشن سونپا گیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم امریکا ، خطے میں اس کے شراکت داروں یا ہمارے مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے بالکل تیار ہیں‘‘۔

خود صدر ٹرمپ نے بھی جمعرات کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ تنازع نہیں چاہتے ہیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے پاس دنیا کے طاقتور بحری جہاز ہیں اور وہ (اسلحہ سے) لدے ہوئے ہیں لیکن ہم کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں‘‘۔