خلیج عُمان میں سعودی عرب، امارات اورناروے کے جہاز تخریب کاری کانشانہ بنے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

العربیہ کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ خلیج عُمان میں متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک جن چار تجارتی بحری جہاز وں کو ’تخریب کاری‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے،ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے، ایک امارات اور ایک جہاز ناروے کا تھا۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے سوموار کو ایک بیان میں اپنے دو جہازوں پر حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں سے ایک جہاز راس تنورہ کی بندرگاہ کی جانب جارہا تھا جہاں اس پر سعودی خام تیل لادا جانا تھا اور یہ تیل امریکا میں سعودی آرامکو کے صارفین کو بھیجا جانا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’خوش قسمتی سے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ سمندر میں تیل رسا ہے۔البتہ تخریب کاری کے حملے سے دونوں جہازوں کے ڈھانچےکو شدید نقصان پہنچا ہے‘‘۔تاہم سعودی عرب نے ان دونوں جہازوں کی شناخت بتائی ہے اور نہ کسی پر اس حملے کے حوالے سے شُبے کا اظہار کیا ہے۔

یواے ای کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تخریب کاری کے اس واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے تمام ضروری اقدامات کرلیے ہیں اور وہ مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاو ن سے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔اس نے بھی واضح کیا ہے کہ تخریب کاری کی اس کارروائی میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے اور نہ کوئی شخص زخمی ہوا ہے۔ تخریب کاری کا ہدف بننے والے جہازوں سے کسی قسم کے خطرناک مواد یا ایندھن کا اخراج بھی نہیں ہوا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ فجیرہ کی بندرگاہ پر کسی قسم کی رخنہ اندازی کے بغیر معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’ تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا جانا اور ان کے عملہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ایک خطرناک پیش رفت ہے‘‘۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آبی ٹریفک کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی پارٹی کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے ۔

قبل ازیں اتوار کو ایران نواز میڈیا نے متحدہ عرب امارات میں شامل امارت فجیرہ کی بندرگاہ پر دھماکوں کی جھوٹی اطلاع دی تھی۔ ایران کے سرکاری پریس ٹی وی کی ویب سائٹ نے لبنان کے ٹی وی چینل المیادین کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بندرگاہ پر تیل کے سات ٹینکروں پر حملہ کیا گیا تھا ۔ امارت فجیرہ کے میڈیا آفس نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی اور انھیں من گھڑت قرار دیا تھا مگر اس نے اپنے بیان میں ان میڈیا ذرائع کا نام نہیں لیا تھا جنھوں نے بندرگاہ پر دھماکوں کی اطلاع دی تھی ۔

اس نے کہا تھا کہ ’’وہ ان میڈیا رپورٹس کی صداقت سے انکار کرتا ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ فجیرہ کی بندرگاہ پر اتوار کی صبح زور دار دھماکے ہوئے تھے۔وہاں ایسا کچھ نہیں ہوا اور بندرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں‘‘۔فجیرہ کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے 140 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز سے دنیا کا ایک تہائی تجارتی تیل ہو کر گذرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں