ایردوآن اپنی جماعت سے احمد داؤد اوگلو کی چھٹی کر سکتے ہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اوگلو "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی سے علاحدہ ہو سکتے ہیں۔ پیر کے روز ترک اخبار "حُريت" میں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس ممکنہ پیش رفت کا پس منظر سپریم الیکشن کمیشن کی جانب سے استنبول شہر میں بلدیاتی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے فیصلے پر احمد داؤد اوگلو کا موقف ہے۔

ترک مضمون نگار عبد القادر سيلفی جو حکم راں جماعت کے مقرب ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ صدر ایردوآن نے پارٹی کی مرکزی کونسل کے اجلاس اور استنبول میں آخری اجلاس کے دوران سپریم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے داؤد اوگلو اور سابق صدر عبداللہ گل کے بیانات پر روشنی ڈالی تھی۔

سیلفی کے مطابق ایردوآن نے عبداللہ گل کے بارے میں کہا کہ "وہ ہمارے ادارے میں شامل نہیں، مدت صدارت مکمل کرنے کے بعد وہ ہماری جماعت کی رکنیت میں شامل نہیں ہوئے"۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایردوآن نے رمضان کے بعد داؤد اوگلو کو علاحدہ کرنے کے حوالے سے اقدامات شروع کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔

عبداللہ گل اور داؤد اوگلو نے سپریم الیکشن کمیشن کے فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی۔

داؤد اوگلو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "سپریم الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ہماری اہم اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی تحریکوں کے لیے بڑا خسارہ انتخابات میں خسارہ نہیں بلکہ سماجی طور پر اخلاق اور ضمیر کی برتری کا خسارہ ہے"۔

عبداللہ گل نے موجودہ صورت حال کو 2007 میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے تشبیہ دی جب انہیں پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ بھی ملک کا صدر بننے سے روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "سپریم الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی طرح ایک بار پھر تاریخ دہرائی ہے ،،، افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھے"۔

داؤد اوگلو نے جمعے کے روز قونیہ شہر میں ایک افطار کی تقریب میں شرکت کے موقع پر جارحانہ انداز میں ایردوآن پر نکتہ چینی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ "احتساب کا دن آئے گا، جب رجسٹر کھولے جائیں گے۔ اس روز ہم دیکھیں گے کہ کس نے اس ورثے سے وفا کی اور کس نے خیانت کی ،،، کس نے اس ورثے کی خاطر بہت قربانیاں دیں اور کس نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کو نظر انداز کیا"۔

اس سے قبل اپریل میں داؤد اوگلو کی جانب سے فیس بک پر جاری بیان کے بعد ایردوآن کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔ اس بیان میں اولو نے ایردوآن پر چھپی تنقید کرنے ہوئے فتح اللہ گولن کی جماعت کے ارکان کے رشتے داروں کے خلاف گرفتاریوں پر بات کی تھی (اس سلسلے میں گرفتار شدگان کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی)۔ اس کے علاوہ اولو نے پارٹی امور میں مداخلت، حریفوں کے خلاف نامناسب زبان کے استعمال اور ایردوآن کی جانب سے اپنے داماد بیرق البیرق کو وزیر خزانہ مقرر کرنے کا تذکرہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں