ترکوں نے عباسی خلیفہ معتز کوبرف کے ٹھنڈے پانی سے کیسے قتل کیا؟

ترکوں کی خلافت عباسیہ میں مداخلت اور خلفاء پرمظالم کی لرزہ خیز داستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

خلافت عباسیہ کے دربار میں ترکوں کا اثرو نفوذ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ خلفاء اور ان کے مقرر کردہ گورنر ترکوں کےہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ گئےتھے۔ ترک جب چاہتے کسی بھی خلیفہ کو معزول کردیتے، اپنےمن پسند شخص کو تخت پر بٹھا دیتے اور ان سے اپنی مرضی کے کام کراتے۔ حتیٰ کہ خلفاء کی زندگی اور موت کے فیصلے بھی ترک کرنے لگ گئے تھے۔ ان کی چیرہ دستیوں کے واقعات تاریخ کی معتبر روایات اورکتب میں تفصیل کےساتھ موجود ہیں۔ بنو عباس کی خلافت کے دوران ترکوں کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا تھا کہ انھوں‌ نے خلیفہ معتز باللہ کو نہایت بے دردی اور بے رحمی کےساتھ جان سے مار دیا تھا۔

مشہورمورخ بن طقطقا جو ابن طقیطقی محمد بن علی بن طباطبا المتوفیٰ 709ھ نے اپنی کتاب''الفخری فی الآداب السلطانیہ" میں ترکوں کے دربار خلافت میں بڑھتے اثرونفوذ اور معتز باللہ کے قتل کا احوال بیان کیا ہے۔ کئی دوسرے مورخین نے بھی اس پرایجاز واختصار کےساتھ روشنی ڈالی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ متوکل کے دور میں ترکوں کا عباسی دربار میں اثرو نفوذ بڑھ گیا تھا۔سنہ 247ھ میں خلیفہ متوکل کےقتل کےبعد ترکوں کو عباسی خلفاء کےدرباروں داخل ہونے کا موقع ملا۔ انہوں‌نے اتنا رسوخ حاصل کرلیا تھا وہ جس بادشاہ کو چاہتے معزول کرتے، مقرر کرتے حتیٰ کہ اسے قتل تک کردیتے تھے۔

ترکوں کو جب اندازہ ہوتا کہ بادشاہ سلامت ان کے مفادات کے لیے کام نہیں کررہے ہیں تو اس کے پیچھے پڑجاتے۔ اسے معزول کرتے، اس پر تشدد کرتے اور اسےقتل کردیتے۔خلیفہ معتز کے ساتھ ترکوں نےجو وحشیانہ سلوک کیا اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔

اسلامی تاریخ کی امہات کتب میں معتز کے قتل کی تفصیلات موجود ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ترکوں نے معتز باللہ کو بےدردی کےساتھ قتل کیا۔ المعتز باللہ 252ھ میں تخت نشین ہوئے۔ان کا دور خلافت اگرچہ مختصر تھا مگر اس میں ترکوں کو دربار میں گھسنے کا موقع ملا۔ جب ترکوں کو اندازہ ہوا کہ بادشاہ ان کے مفادات کےلیے کام نہیں کررہا ہےتو انہوں‌نے ایک ھجوم کی شکل میں بادشاہ کےدرمیان میں پہنچ کر ان سے رقم مانگی۔ خلیفہ نےمعذرت کی کہ ان کا خزانہ خالی ہے اورجتنی رقم وہ مانگ رہےہیں خزانے میں موجود نہیں۔ بادشاہ نے بیماری کا بہانہ کرکے دربا میں نہ آنے کا فیصلہ کیا مگر ترکوں‌نےان کی ایک نہ مانی۔ وہ انہیں پکڑ کرباہر لےآئے۔ سب نے ان کی خلعت خلافت اتارنے اورانہیں قتل کرنے کا تہیا کرلیا۔ بادشاہ کو باہرلانے کےبعد اس پر پل پڑے۔ اسے لاتوں اورگھونسوں اور تھپڑوں سے مارنے کے ساتھ جسم پر سوئیاں چبھوئی گئیں۔ ان میں سے بعض بادشاہ کے چہرے پر تھپڑے مارتے اور بادشاہ اپنے ہاتھوں سے خودکو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔

مورخین کا کہنا ہے کہ معتز باللہ کو کمرے میں لے جا کر بندکردیا اورانہیں بھوکا پیاسا رکھا یہاں تک کہ وہ 255ھ میں اسی حالت میں وفات پاگئے۔

الفخری نے معتز باللہ کی موت کی مزید تفصیل بیان نہیں کی مگربعض دوسرے مورخین جن میں ابن الاثیرالجزری بھی شامل ہیں نے تفصیل کے ساتھ معتز باللہ کے قتل کا واقعہ قلم بند کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ترکوں‌ نے معتز بااللہ اور ان کی ماں جو خلافتی امور میں گہرا رسوخ رکھتی تھی سےرقم مانگی مگر وہ نہ دے پائے جس کے بعد بادشاہ کو معزول کردیا گیا۔

تاریخی کتب میں خلیفہ معتز باللہ کے ترک قاتلوں کے نام تک موجود ہیں۔ ان میں اہم ترین صالح بن وصیف الترکی، محمد بن بغا اور با بکیال یا جسے بعض کتب میں بایکباک لکھا گیا ہے شامل ہیں۔ ابن اثیر کے مطابق خلفیہ نےجب ترکوں کے مطالبات نہ مانیں تو وہ بگڑ گئے اور خلیفہ کو پکڑ کر باہر لے آئے۔ ان پر سوئیوں کے ذریعے تشدد کیا، ان کےکپڑے پھاڑ ڈالے اور کڑی دھوپ میں کھڑا کردیا۔ گرمی بہت زیادہ تھی۔ وہ گرمی میں ایک پائوں زمین پر رکھتے اور دسرا اٹھاتے۔ ترک انہیں تھپڑ مارتے۔ ابن اثیر کے مطابق ترک اس کےبعد المعتز باللہ کو ایک اور جگہ لے گئے جہاں اس پر جپسم ڈالا گیا تاکہ مرنے کے بعد اس پر تشدد کا کوئی نشان نظر نہ آئے اور لوگ یہ یقین کرلیں کہ بادشاہ طبیعی موت مرا ہے۔

محمد بن جریر طبری نے 'تاریخ الرسل والملوک' میں لکھا ہے کہ ترکوں‌نے معتز کو سوئیوں، لوہے کی لاٹھیوں، طمانچوں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ انہیں شدید دھوپ میں کھڑا کیایہاں تک کہ بادشاہ نے خلفت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
مورخ حافظ ابن کثیر نے کتاب البدایہ والنھایہ میں لکھا ہےکہ ترکوں‌نے خلیفہ معتز کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کافیصلہ کیا۔ان کے جسم پر جپسم ڈالا گیا اور ان کی موت پر ایک گروپ نے گواہی دی کہ وہ طبعی موت مرا ہے۔

مورخ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبی نے لکھا کہ ترکوں کی وجہ سےخلافت عباسیہ بہت کمزور ہوچکی تھی۔ اس وقت عباس خلیفہ ترکی کےصالح بن وصفی الترکی سے خوف زدہ رہتا۔ وہی شخص بعد میں خلیفہ کے قتل کا منصوبہ ساز قرار دیاگیا تھا۔

الذھبی کے مطابق ترکوں‌ نےخلیفہ معتز کو گرفتار کرکے پانچ دن تک ایک خالی جگہ پر بند کردیا۔ شدیدگرمی کےباعث خلیفہ کی حالت نازک ہوچکی تھی۔ سخت پیاس کی حالت میں اسے برف کا شدید ٹھنڈا پانی پلایا گیا۔ وہ پانی پیتے ہی المعتز با اللہ نے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ اس کےبعد ترکوں نے اس کی لاش اٹھا کر دربار میں رکھ دی اور یہ مشہورکردیا کہ خیلفہ طبیعی موت سے فوت ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں