ترکی کا فرانس میں اسلامک اسکولز کھولنے کا ارادہ ، پیرس کو شدید تحفظات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی فرانس میں انٹرمیڈیٹ اسکولز قائم کرنے کی خواہش نے پیرس اور انقرہ کے درمیان تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فرانسیسی وزیر تعلیم جان میشیل بلینکر نے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیان میں اس خیال کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرانس کی سیکولر پالیسی سے خارج قرار دیا۔

بلینکر نے "RMC" ریڈیو کو انٹرویو میں ایردوآن کی جانب سے مذہبی سخت گیریت پھیلانے کی کوششوں پر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ترکی نے اُس سیکولرزم کو پیٹھ دکھا دی ہے جو کئی دہائیوں سے اس کی تاریخ کا امتیاز رہا۔ اب اس کا رخ مذہبی بنیاد پرستی کی سمت ہو گیا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے بالکل واضح رہنا ہو گا۔ لہذا میں اس منصوبے کے سلسلے میں انتہائی خبردار کر رہا ہوں"۔

فرانسیسی وزیر نے ترکی کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بلینکر نے باور کرایا کہ وہ فرانس میں بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کے مخالف نہیں ہیں مگر ترکی کے حکام کی جانب سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے فرانسیسی اداروں پر دباؤ کو مسترد کرتے ہیں"۔

بلینکر کا یہ بیان فرانسیسی جریدے "لوبوان" میں 3 مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون پر تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے صدر فرانس میں تُرک اسکولز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل ترک ذمے داران نے گزشتہ ماہ ترکی میں فرانسیسی انٹرمیڈیٹ اسکولوں کا دورہ کیا تھا۔ دورے کا مقصد اس امر کی تصدیق کرنا تھا کہ ترک طلبہ کی تعلیم کے واسطے یہ ادارے ترک معاشرے کی اقدار کی کس حد تک پاسداری کر رہے ہیں۔

ترکی کی حکومت نے جولائی 2017 میں ایک نیا تعلیمی نصاب پیش کیا تھا۔ اس نئے نصاب میں بعض علمی نظریات کو حذف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے لیے مختص مواد کے ایک بڑے حصے کو 15 جولائی 2016 کو ایردوآن کے خلاف ناکام انقلاب کی کوشش کے متعلق متن سے تبدیل کر دیا گیا۔

ترکی نے فرانس میں اپنا پہلا انٹرمیڈیٹ اسکول 2015 میں اسٹراس برگ شہر میں کھولا تھا۔ یہ فرانس میں تیسرا اسلامک اسکول تھا۔


مقبول خبریں اہم خبریں