حوثیوں کے بندرگاہوں سےانخلا کے باوجود یمن امن اور جنگ کےدوراہے پر ہے:عالمی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے اہم بندرگاہوں سے انخلا کے باوجود ملک میں ایک مکمل جنگ دوبارہ چھڑنے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند روز کے دوران میں پیش آنے والے واقعات کے باوجود یمن امن اور جنگ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔

مارٹن گریفتھس نے یمنی حکومت اور حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی فورسز کی از سر نو تعیناتی کے لیے آگے بڑھیں اور ایک وسیع تر امن سمجھوتے کے لیے مذاکرات کی میز پر لوٹ آئیں ۔انھوں نے کہا کہ ’’ امید کے اشارے بھی ملے ہیں لیکن جنگ کے انتباہی اشارے بھی مل رہے ہیں‘‘۔

عالمی ایلچی نے حوثیوں کے بحیرہ احمر کے کنارے واقع یمن کی تین بندرگاہوں سے انخلا کی اطلاعات کے بعد یہ گفتگو کی ہے۔حوثیوں نے دسمبر میں سویڈن میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمنی حکومت سے طے شدہ امن سمجھوتے کے تحت تین بندرگاہوں سے انخلا سے اتفاق کیا تھا لیکن وہ گذشتہ مہینوں کے دوران میں اس سمجھوتے پر عمل درآمد میں پس وپیش سے کام لیتے رہے ہیں۔

باغی حوثیوں نے اسی ہفتے الحدیدہ ، الصلیف اور راسِ عیسیٰ کی بندر گاہوں سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلا لیا ہے۔اس اقدام کو اسٹاک ہوم سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

حوثی ملیشیا نے پہلے مرحلے میں ان بندرگاہوں کا کنٹرول ایک ’ کوسٹ گارڈ‘ کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یمنی حکومت کے بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے بندرگاہوں کا کنٹرول جن فورسز کے حوالے کیا ہے ، وہ دراصل ایک مختلف وردی میں ملبوس باغی جنگجو ہی ہیں ۔

مارٹن گریفتھس نے اس کے باوجود اس پیش رفت کو الحدیدہ کے لیے ایک نیا آغاز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تبدیلی اب ایک حقیقت ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں غذائی اجناس سمیت تمام درآمدات الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے ہی آتی ہے۔سعودی عرب سمیت مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے بحری جہازوں کے ذریعے بھیجی جانے والی غذائی امداد بھی الحدیدہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز کی جاتی ہے اور پھر اس کو ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب روانہ کیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یمنیوں کی ایک کثیر تعداد اس وقت قحط سالی سے دوچار ہے اور انھیں فوری بین الاقوامی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں