سعودی عرب یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا: عبداللہ المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ ان کا ملک حوثی باغیوں کے دو آئیل پمپنگ اسٹیشنوں پر حالیہ حملوں کے باوجود یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر دیان ترائن سیاح جانی (انڈویشی سفیر) اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے نام ایک خط لکھا ہے ۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’سعودی عرب یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان دسمبر 2018ء میں اسٹاک ہوم میں طے شدہ سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے‘‘۔اس کے تحت حوثی باغیوں نے ساحلی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا مگر انھوں نے ابھی تک اپنے وعدے کو ایفا نہیں کیا ہے۔

عبداللہ المعلمی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کو غیر مسلح کرے اور انھیں الحدیدہ کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔اس سے ان کے بہ قول ’’اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن کی تنازع کے پُرامن حل کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے‘‘۔

یمن کے حوثی باغیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی نے منگل کے روز ایک فوجی عہدے دار کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر سات ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔سعودی وزیر برائے توانائی ، صنعت اور قدرتی وسائل خالد الفالح نے تیل کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملوں کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا مقصد تیل کی عالمی سپلائی کو ہدف بنانا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں