آسٹریا: پرائمری سکول میں حجاب پر پابندی کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی ملک آسٹریا کی پارلیمان کے ارکان نے حکومتی پارٹی کی جانب سے پرائمری سکولوں میں حجاب پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے۔

اس بل کو مسلم منافرت کی چھاپ لگنے سے بچانے کے لئے اس کی آئینی زبان میں لکھا گیا ہے کہ یہ پابندی "کسی بھی مذہب یا نظریے سے جڑے سر پوش" پر لگائی گئی ہے۔ اس آئینی زبان کے باوجود حکومتی اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعتیں اس بات کو واضح کرچکی ہیں اس قانون کا اصل ہدف اسلامی حجاب ہی ہے۔

آسٹریا کے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت فریڈم پارٹی کے ترجمان کے مطابق یہ قانون 'سیاسی اسلام کے خلاف ایک واضح اشارہ ہے۔' اس کے علاوہ دوسری حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے ایک رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام چھوٹی بچیوں کو مطیع بنانے کی کوششوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری تھا۔

آسٹریائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کے نتیجے میں سکھ مذہب کا 'پٹکا' اور یہودی مذہب کا 'کپا' متاثر نہیں ہوگا۔

اس موقع پر آسٹریا میں مسلمانوں کی تنظیم نے ان کوششوں کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومتی فیصلے کے نتیجے میں پرائمری سکول میں پڑھنے والی بچیوں کا ایک مخصوص حصے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس بل پر رائے دہی میں تمام اپوزیشن ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا اور کچھ ارکان نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ابلاغی ذرائع میں ہیڈلائنز چھپوانے کی چاہت میں معصوم بچوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کو آسٹریا کی آئینی عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں