خطرے کی صورت میں امریکا عراق میں الحشد ملیشیا کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے:امریکی دانشور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بناء پر عراق میں ایمرجنسی کا لیول چار درجے تک بڑھانے کے بعد عراق میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں میں موجود غیرضروری عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے جاری کردہ انتباہ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کےباعث عراق میں موجود ایران نواز ملیشیائیں امریکی شہریوں، فوجیوں اور امریکی تنصیبات پر حملے کرسکتی ہیں۔

عراقی سیکیورٹی ذرائع نے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں‌ نے عراقی سیکیورٹی حکام پر زور دیا کہ ملک میں موجود ملیشیائوں کو سرکاری فوج کے ماتحت لایا جائے۔ انہوں‌ نے واضح‌ کیا کہ عراق میں امریکی مفادت پرحملے کی صورت میں فوری اور موثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

امریکا کی طرف سے یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی کی فضاء پائی جا رہی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں کےقریب میزائل لانچنگ مراکز پر میزائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام عراق میں موجود امریکا کے 5200 فوجیوں اور 6 فوجی اڈوں کو شدید نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتا ہے۔

اسی حوالے سے امریکا میں ''ہڈسن انسٹیٹیوٹ" سے وابستہ تجزیہ نگار مائیکل بیرگنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حکومت عراق میں اپنے مفادات کا ہرممکن دفاع کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ خطرے کی صورت میں امریکا عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں 'عصائب اھل الحق' اور 'الحشد الشعبی' ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوج اور تنصیبات کا تحفظ ایران کے دست و بازو بن کر کام کرنے والے گروپوں کےخلاف سخت کارروائی میں مضمر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں