.

سعودی آرامکو کی تنصیبات پرحملے حوثیوں کے ایرانی آلہ کار ہونے کا مظہر:شہزادہ خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ ایرانی آلہ کار ہیں اور وہ ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔

یہ بات سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہی ہے اور یہ آرامکو کی تنصیبات پر حوثیوں کے ڈرون حملوں کے بعد ان کا پہلا ردعمل ہے۔انھوں نے کہا:’’ آرامکو کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حوثی ملیشیا ایرانی رجیم کی محض آلہ کار ہے اور اس کو خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کے نفاذ کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے اور یہ حوثیوں کے جھوٹے دعوے کے برعکس یمن میں عوام کا تحفظ نہیں کررہی ہے‘‘۔

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ سعودی تنصیبات پر حملوں کا حکم تہران میں رجیم نے دیا تھا اورحوثیوں نے اس حکم کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ ان حملوں کا مقصد (یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے )سیاسی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔

یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کی مشرق سے مغرب کی جانب جانے والی تیل کی مرکزی پائپ لائن پر دو ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران امریکا کے ساتھ فوجی تنازع کی صورت میں تیل کی عالمی رسد کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

پاکستان اور عرب ممالک نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات پر ان ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’’ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کے استحکام اور سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے‘‘۔ مصر نے کہا ہے کہ اس نے درپیش چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ روابط کو اعلیٰ سطح تک بڑھا دیا ہے۔