.

سوڈان : مذاکرات معطل ہونے کے بعد "فریڈم اینڈ چینج" کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ڈکلریشن آف فریڈم اینڈ چینج فورسز نے کہا ہے کہ عسکری کونسل کا عبوری مرحلے کے حوالے سے مذاکرات معلق کر دینا "افسوس ناک" ہے۔

فریڈم اینڈ چینج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وزارت دفاع کی جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر اور ملک میں دھرنوں کے تمام مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل عبوری عسکری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے جمعرات کو علی الصبح سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ احتجاج کنندگان کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کو 72 گھنٹوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت خرطوم میں فوج کی جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرین کے دھرنے کے اطراف فائرنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔

البرہان کے مطابق فریڈم اینڈ چینج کے ساتھ مذاکرات قربت کے ماحول میں ہو رہے تھے۔ تاہم عسکری کونسل کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ مسلح افواج کے خلاف معاندانہ تقریر نے ایک طرح کی سیکورٹی افراتفری پیدا کر دی۔

البرہان نے مزید کہا کہ "ہم نے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور آمد و رفت اور ریلوے ٹریکس کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی مذاکرات کو 72 گھنٹوں کے لیے روک دیا گیا ہے"۔

عسکری کونسل کے سربراہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انقلاب سے حاصل نتائج کا تحفظ کریں تا کہ ان کے ذریعے مطلوبہ مقاصد کی تکمیل ہو سکے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جارحیت نے انقلاب کے پُر امن ہونے کا عنصر ختم کر دیا۔ البرہان کے مطابق مسلح افواج انقلاب اور وطن اور شہریوں کے تحفظ کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔