.

فوجی کشیدگی کو دشمن ریاستوں تک بڑھا دیا جائے گا: عبدالملک الحوثی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں کے لیڈر عبدالملک الحوثی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ حوثی ملیشیا اپنی عسکری صلاحیتوں میں مزید اضافہ کررہی ہے اور انھوں نے اپنی فعالیت کو ثابت کیا ہے لیکن ابھی اس سے بھی کچھ ’’بڑا اور عظیم تر‘‘ سامنے آنے کو ہے‘‘۔

انھوں نے یہ دعویٰ ایک ریکارڈ نشری تقریر میں کیا ہے۔ان کی یہ تقریر بدھ کو حوثیوں کے زیر انتظام المیسرہ ٹی وی چینل نے نشر کی تھی مگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کا انٹرویو تھا۔

عبدالملک الحوثی نے کہا:’’ جنگ کے پانچویں سال میں مزید فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ ہمیں ان صلاحیتوں کے مؤثر ہونے کی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔انھوں نے خود ہی اپنی اہمیت اور اثر پذیری ثابت کردی ہے لیکن جو کچھ آ رہا ہے ، وہ اس سے بھی بڑا ا ور عظیم ہے اور ہم اس کے اطلاق اور حقیقی نتائج کی صورت میں ثبوت چھوڑیں گے‘‘۔

حوثی لیڈر کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی سعودی عرب میں تیل کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر بارود سے لدے ڈرون طیاروں سے حملہ کیا تھا۔ان میں ایک اسٹیشن سعودی عرب کے مشرقی قصبے الدوادمی اور ایک عفیف شہر میں واقع ہے۔ حوثی ملیشیا نے اس ڈرون حملے کی قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک نے اس ڈرون حملے کو دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے جس کا مقصد تباہی پھیلانا تھا۔انھوں نے اس حملے کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی نے ایک فوجی عہدے دار کے حوالے سے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر سات ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ایران کے سرکاری پریس ٹی وی نے بھی ان حملوں کی ایک تصویری ویڈیو نشر کی تھی۔

المسیرہ ہی نے عبدالملک الحوثی کا مذکورہ بیان نشر کیا ہے اور ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ان کا پہلا ٹیلی ویژن انٹرویو ہے۔اس میں انھوں نے مزید کہا کہ ’’ اس وقت اہم ، مناسب اور مؤثر ہتھیاروں کی پیداوار جاری ہے لیکن ان کی تفصیل صیغہ راز میں رہے گی ۔یہ میزائل الریاض ،اس سے ماورا ، ابو ظبی ، دبئی تک پہنچنے کی صلاحیت کے حامل ہیں ۔ وہ اہم اور حسّاس اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔وہ(عرب ممالک؟) اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اہم ، حسّاس اور موثر اہداف سے ہماری کیا مراد ہے؟مجھے امید ہے کہ یہ پیغام ان تک پہنچ جائے گا اور وہ اس کو اچھے طریقے سے سمجھ جائیں گے‘‘۔