.

روسی میزائل اور امریکی طیارے دونوں ہی لیں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ روس سے ایس۔400 طرز کے دفاعی سسٹم کی خریداری کا معاملہ طے شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک ماسکو کے ساتھ مل کر ایس-500 طرز کا دفاعی نظام بھی تیار کرے گا۔

امریکی حکام نے ترکی کی جانب سے ایس۔400 طرز کے میزائل شکن سسٹم کی خریداری کو ’’انتہائی بڑی مشکل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ترکی کو ایف۔35 طرز کے امریکی لڑاکا طیاروں کی خریداری معاہدے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے اور عین ممکن ہے کہ ایف۔35 طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن یہ معاہدہ ہی منسوخ کر دے۔

ترک ٹی وی پر استنبول یونیورسٹی طلبہ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے رجب طیب ایردوآن نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے اس ضمن میں ضروری تکنیکی کام مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد ایسی کسی مشکل کا وجود باقی نہیں رہا۔

’’امریکا کچھ پس وپیش کے ساتھ معاملات آگے بڑھا ہے۔ تاہم جلد یا بدیر ترکی کو ایف۔35 لڑاکا طیارے مل جائیں گے۔ امریکا سے ان طیاروں کا نہ ملنے کا آپشن نہیں موجود نہیں ہے۔‘‘

دوسری جانب وزیرِ دفاع خلوصی عقارنے اسی معاملے پر تکنیکی معلومات سے آگاہی کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روس سے ایس۔400 نظام کی خرید ایف۔35 منصوبے کو متاثر نہیں کرے گی۔

ترکی کے ایف۔35 منصوبے کے ایک شراکت دار ہونے اور ابتک اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بلا کسی خامی کے پورا کرنے اور شراکت داری کے تحت 1٫2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی وضاحت کرتے ہوئے عقار نے بتایا کہ "ایس۔400 کے ایجنڈے میں آنے کے بعد ، ایف۔ 35 کا معاملہ مشکل میں پڑگیا۔' لیکن ہم نے تمام تر متعلقہ فریقین کو بارآور کرادیا ہے کہ ہمارے سمجھوتے میں ایس۔400 خریدنے کی صورت میں شراکت داری منسوخ ہو جائیگی جیسی کوئی شق موجود نہیں۔ ہم اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی اور مخلصانہ طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ ویسے بھی ایس۔400 میزائل نظام نیٹو کے سسٹم سے مکمل طور پر خود مختار ہو گا۔