.

مودی نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں سوالوں کےجواب کیوں نہ دیئے!؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پانچ سال کے دور اقتدار میں حال ہی میں پہلی ’پریس کانفرنس‘ کی، تاہم انہوں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

وزیر اعظم مودی نے ان سے پوچھے گئے تمام سوالات کو اپنے ساتھ بیٹھے پارٹی صدر امت شاہ کی طرف موڑ دیا۔ سترہ مئی کو ہونے والی نیوز کانفرنس کا پچھلے پانچ برس سے ہر صحافی کو کافی انتظار تھا۔ وہ ملک کے وزیر اعظم سے براہ راست سوال پوچھنا چاہتے تھے کیوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی تھی۔ تاہم انہیں آج اس وقت خاصی مایوسی ہوئی جب وزیر اعظم نے ان سے براہ راست پوچھے گئے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”ہمارے لیے پارٹی صدر ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔"

بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد اس رسمی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے صر ف بیان دینے پر اکتفا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرنے آئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے سے اہل وطن کا بھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے دعوی کیا کہ موجودہ عام انتخابات میں بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہو گی، ”مجھے یقین ہے کہ مکمل اکثریت والی حکومت پانچ سال کی مدت کار مکمل کرنے کے بعد دوبارہ جیت کر اقتدار میں آ رہی ہے اور طویل عرصے کے بعد ایسا ہوگا۔ ملک کے عوام کو سن 2014 کے بعد 2019ء میں پھر سے موقع ملا ہے۔ عوام نے حکومت بنانا طے کرلیا ہے۔ ملک کو آگے لے جانے کے لیے کیا کرنا ہے۔ جلد سے جلد نئی حکومت اپنا کام شروع کردے گی۔"

بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب الیکشن میں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف مہنگائی اور بدعنوانی کو انتخابی موضوع نہیں بنایا گیا، ”بہت دنوں کے بعد عوام نے ایسا الیکشن دیکھا ہے جس میں یہ موضوعات غائب تھے۔"

حالیہ پریس کانفرنس میں دلچسپ بات یہ رہی کہ جس وقت وزیر اعظم مودی صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ٹھیک اسی وقت اپوزیشن کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی کی بھی پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس چل رہی تھی۔ راہل گاندھی نے طنزیہ لہجے میں کہا، ”میں دو تین صحافیوں کو وزیر اعظم کی پریس کانفرنس میں بھیجنے والا تھا لیکن پتہ چلا کہ وہاں تو دروازہ ہی بند کردیا گیا ہے۔ میں وزیر اعظم سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھ سے رافیل جنگی طیارہ معاملے پر بحث کیوں نہیں کی؟ میں نے آپ کو چیلنج کیا، انیل امبانی کے معاملے پر سوال پوچھے، لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آج پریس کانفرنس کر رہے ہیں تو ملک کو بتا دیجئے کہ آپ میرے ساتھ ڈیبیٹ کیوں نہیں کرنا چاہتے ہیں۔"

وزیر اعظم مودی کی اس پریس کانفرنس پر سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصرے ہو رہے ہیں۔ لوگ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہرماہ ریڈیو پر’من کی بات‘ کرنے والے اور بڑے بڑے عوامی جلسوں کو اپنی تقریروں سے مسحور کر دینے والے نریندر مودی نے آج صحافیوں کے ایک بھی سوال کا جواب کیوں نہیں دیا۔