.

امریکی صدر کی نسل کشی کی دھمکی سے ایران ختم نہیں ہوگا: جواد ظریف

’’ایران سے متعلق صدرٹرمپ وہ کامیابی چاہتے ہیں جو سکندر اعظم اور چنگیز خان کو بھی نصیب نہ ہوئی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل کشی کی دھمکی پر مبنی بیان سے ایران ختم نہیں ہوگا۔

جواد ظریف نے سوموار کو ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ایرانی ہزار صدیوں سے کھڑ ے ہیں جبکہ تمام جارحین کا خاتمہ ہوگیا۔معاشی دہشت گردی اور نسلی تطہیر کے بیانات سے ایران کا خاتمہ نہیں ہوگا‘‘۔

ایران اورا مریکا کے لیڈروں کےدرمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک دوسرےکا ترکی بہ ترکی جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ روز امریکی صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ’’ اگر ایران لڑائی چاہتا ہے تو یہ سرکاری طور پر اس کا خاتمہ ہوگا ۔وہ امریکا کو ڈرائے دھمکائے نہیں‘‘۔

اس سے ایک روز پہلے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکا تو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح صرف ایک وار کی مار ہے۔ ان کے بہ قول ’’امریکی اس وقت سخت خطرے سے دوچار ہیں۔امریکا اپنی طاقت کھو چکا ہے۔ وہ اگرچہ طاقتور دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ زبوں حال ہے۔اس کی کہانی بھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر ایسی ہے جو صرف ایک حملے ہی میں دھڑام سے نیچے آگرا تھا‘‘۔

ان تندوتیز بیانات کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے جنگ نہیں چاہتے ہیں۔خود وزیر خارجہ جواد ظریف نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ایران کوئی تنازع نہیں چاہتا ہے اور کسی بھی ملک کو ایران سے تنازع کے بارے میں کوئی مغالطہ نہیں ہے ،اس لیے ان کے خلاف کسی جنگ کا کوئی امکان نہیں ۔