.

چاند پر مردوں کی اجارہ داری ختم،'ناسا' کا پہلی خاتون چاند کی سطح پر اتارنے کا پلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چاند کی سطح پرانسان کو قدم رکھے پانچ عشرے ہونے والے ہیں۔ اب تک چاند پراترنےوالوں میں مرد ہی شامل رہے ہیں مگرامریکی خلائی ایجنسی 'ناسا' نے پہلی بار سنہ 2024ء میں ایک خاتون کو چاند پر اتارنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'ناسا' کے خلائی مشن کے لیے بجٹ میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

'ناسا' کئ ڈائڑیکٹر مواصلات 'بیٹینا انکلین' نے بتایا کہ اب تک چاند کی سطح‌ پر قدم رکھنے والے کل 12 خلائی سائنسدان سب امریکی مرد تھے۔ تاہم ایجنسی پہلی بار ایک امریکی خاتون خلانورد کو بھی چاند پر اتارنے کی تیاری کررہی ہے۔

گذشتہ سوموار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناسا کے بجٹ میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ہم زیادہ اور بڑے پیمانے پر خلائی تحقیقات کی طرف واپس پلٹنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ 'ناسا' کی عظمت رفتہ کی بحالی اور چاند پر اپنے تحقیقاتی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مریخ کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ 'ناسا' نے دوبارہ چاند کی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور تحقیقات کے لیے 21 ارب ڈالر کےبجٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ایجنسی 'ناسا' کے ڈائریکٹر جیم بریڈنشائن نے کہا ہے کہ یہ بجٹ ایجنسی کو نئے منصوبوں کے ڈیزائن، ڈویلپمنٹ اور دریافتوں کےمیں مدد فراہم کرے گا۔

سوموار کو ناسا نے چاند کے جنوبی حصے میں 2024ء کو خاتون خلان ورد کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

'ناسا' کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ چاند پر خاتون کو اتارنے کے مشن کو قدیم یونانیوں میں چاند کےمعبود 'ارٹمیس' کے نام سے موسوم اور اپالو کی جڑواں بہن کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 'ناسا' نے 'اپالو 11' نامی مشن کے تحت 20 جولائی 1969ء کو پہلی بار ایک زندہ انسان کو چاند کی سطح‌پر اتارا تھا۔

برڈنشائن کاکہنا ہے کہ 50 سال کےبعد 'ارٹمیس' پروگرام میں ایک مرد اور ایک ایک خاتون کو چاند پر ایک ساتھ اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔