.

گرین زون میں راکٹ حملے کے پیچھے ایران اور حامی ملیشیاؤں کا ہاتھ لگتا ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ویب سائٹWashington Examiner کے مطابق اتوار کی شام بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے اطراف گرنے والا راکٹ اُسی ساخت کا ہے جس کو ایران فروغ دے رہا ہے۔ مشرق وسطی میں دہشت گرد جماعتیں اسی ساخت کا میزائل استعمال کر رہی ہیں۔

ابھی تک گرین زون پر کیٹوشیا راکٹ داغنے والے فریق کے بارے میں نہیں جانا جا سکا۔ یاد رہے کہ یمنی حکام نے 2013 میں اپنے ساحلوں کے نزدیک ایک ایرانی بحری جہاز کو پکڑا تھا جس میں اسی ساخت کے راکٹوں کی کھیپ موجود تھی۔

عراقی فوج کے ترجمان میجر جنرل یحیی رسول کے مطابق اتوار کے روز "کیٹوشیا" راکٹ امریکی سفارت خانے سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر آ کر گرا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج تحقیقات کر رہی ہے مگر ان کا خیال ہے کہ یہ میزائل بغداد کے مشرق کی سمت سے داغا گیا تھا۔ اس علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کا ٹھکانہ ہے۔

عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرین زون کے اندر گرنے والے کیٹوشیا راکٹ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی فوج نے بھی گرین زون میں دھماکے کی تصدیق کی مگر اس کا کہنا تھا کہ امریکی فوج یا اتحادی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کیٹوشیا راکٹ کی پہنچ 25 میل تک ہوتی ہے۔ یہ حزب اللہ اور حماس جیسی متعدد ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کے پاس موجود ہے۔

اتوار کے روز ہونے والا حملہ گزشتہ برس ستمبر کے بعد سے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ ستمبر میں بھی گرین زون کے اندر ایک غیر آباد علاقے میں 3 کیٹوشیا راکٹ گرے تھے۔

عراق میں اس وقت 5 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں۔ وہاں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا بھی وجود ہے جن میں بہت ملیشیائیں امریکی افواج کا کوچ چاہتی ہیں۔