.

استنبول میں دوبارہ انتخابات سے قبل ایردوآن کی کُردوں سے دوستی کی پینگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ "کردستان ورکرز پارٹی" کے بانی اور سربراہ عبدالله اوجلان نے اپنے وکیل سے ملاقات کی ہے۔ ترکی کے امور کے جرمن ماہر کرم شیمبرگر نے اس فیصلے کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ فیصلہ ترک حکام کی جانب سے پہلی مرتبہ سرکاری اعتراف کے مترادف سامنے آیا ہے کہ اوجلان کو تنہا رکھا گیا ہے۔ انقرہ حکومت اب تک اس امر کی تردید کرتی رہی تھی۔

شیمبرگر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی کے وزیر انصاف کی جانب سے ملاقات کے فیصلے کو "حیران کن" قرار دیا۔ جرمن ماہر نے اس فیصلے کو خاتون رکن پارلیمنٹ لیلی گوفن کی قیادت میں ہزاروں ساتھیوں کی بھوک ہڑتال کی تحریک کے دباؤ سے مربوط کیا۔ شیمبرگر کے نزدیک بھوک ہڑتالیوں نے ترک حکام کو مجبور کر دیا کہ وہ ان افراد کے مطالبات کے مطابق حرکت میں آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوجلان کی تنہائی کے خاتمے کی بات کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ اسی وجہ سے لیلی گوفن نے ابھی ت کترکی ، یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھوک ہڑتال کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ان سب کو اوجلان کے وکیل کی اپنے مؤکل تک رسائی کا انتظار ہے۔ قانون کے مطابق یہ گرفتار شدگان کے سادہ ترین حقوق میں سے ہے۔

کرد رہ نما اوجلان کے وکیل انقرہ حکومت کے نئے فیصلے سے دو ہفتے قبل جیل میں اوجلان سے ملاقات میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس سے قبل یہ امر 2011 سے ممنوع تھا۔

ترکی میں کرد ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اوجلان کی قید تنہائی ختم کریں جس کے نتیجے میں اوجلان کی جماعت اور ترکی کی فوج کے درمیان مسلح تنازع نے جنم لیا۔ سال 1983 سے فریقین کے درمیان جاری تنازع میں 40 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

ترک پارلیمنٹ کی خاتون رکن لیلی گوفن پہلے ہی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہہ چکی ہیں کہ وہ اوجلان کی قید تنہائی ختم ہونے تک اپنی بھوک ہڑتال کا سلسلہ نہیں روکیں گی۔ تاہم اوجلان کے وکلاء کے مطابق ان کے مؤکل کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے تمام افراد اپنی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

ترکی کے امور کے ماہرین کے مطابق انقرہ حکومت نے کرد رہنما کے وکلاء کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت اس لیے دی ہے تا کہ استنبول میں بلدیاتی انتخابات کے دوبارہ منعقد ہونے پر کرد رائے دہندگان کے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمراں جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" نے مارچ میں ہونے والے انتخابات میں استنبول میں اپوزیشن کے امیدوار اکرم امام اولو کی جیت کو مسترد کر دیا تھا۔

حکمراں جماعت کو ملک کے بڑے شہروں میں بلدیاتی انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان میں انقرہ اور استنبول سرفہرست ہیں۔ استنبول میں بسنے والے لاکھوں کردوں نے انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار کو سپورٹ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ترکی کے وزیر انصاف عبدالحمید گل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "ملاقاتوں کو ممنوع قرار دینے والے فیصلوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اوجلان سے ملاقات کی جا سکتی ہے"۔ گل کے مطابق "کسی بھی زیر حراست شخص کی اپنے وکیل سے ملاقات اس کا حق ہے مگر سیکورٹی وجوہات کے سبب اس سے روکا جا سکتا ہے"۔

دوسری جانب ترکی میں کردوں کی ہمنوا اپوزیشن جماعت "ڈیموکریٹک پارٹی" کے سرکاری ترجمان نے باور کرایا ہے کہ اوجلان پر کئی برسوں سے عائد قید تنہائی ابھی تک جاری ہے۔ ترکی مذکورہ جماعت پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس کے کالعدم جماعت کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ روابط ہیں۔ ترجمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفون پر گفتگو میں بتایا کہ ترک وزیر انصاف کی جانب سے چند روز قبل اعلان کردہ فیصلے کے باوجود کُرد رہ نما کی صورت حال کے حوالے سے کوئی تبدیلی سامنے نہیں آئی ہے۔

انقرہ حکومت ملک میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت "ڈیموکریٹک پارٹی" پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے اپوزیشن کی مرکزی جماعت "ریپبلکن پارٹی" کے ساتھ غیر اعلانیہ اتحاد کر رکھا ہے جس کے سربراہ قلیچ دار اولو ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

ترکی میں حکمراں جماعت اوجلان کے وکلاء کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دیے جانے کے بعد استنبول میں 23 جون کو دوبارہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کرد رائے دہندگان کے ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

ترکی نے یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کی شرط کے طور پر 2002 میں ملک میں سزائے موت کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد عبداللہ اوجلان عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اوجلان کو جون 1999 میں غداری اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔