.

سی این این ترک کو اکرم امام اوغلو کے انٹرویو پر قینچی چلانے پر کڑی تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سی این این ترک چینل نے استنبول کے مئیر کے امیدوار اکرم امام اوغلو کے انٹرویو پر قینچی چلا دی ہے جس پر اسے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ترکی کی حزب ِاختلاف کے امیدوار امام اوغلو سوموار کی شب استنبول کی بلدیہ میں ’’فضول خرچیوں‘‘ پر گفتگو کرنے ہی لگے تھے کہ سی این این ترک کے میزبان نے انھیں اچانک روک دیا اور ان کے انٹرویو کا باقی حصہ نشر ہی نہیں کیا۔

اکرم امام اوغلو ترکی کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت عوامی جمہوری پارٹی ( سی ایچ پی) کے امیدوار ہیں۔وہ مارچ میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں مئیر کا انتخاب جیت گئے تھے اور انھوں نے سابق وزیراعظم اور حکمراں جماعت ترقی اور انصاف پارٹی(آق) کے امیدوار بن علی یلدرم کو شکست سے دوچار کیا تھا لیکن انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹ فراڈ کے الزامات پر ترکی کی الیکشن کمیٹی نے ان کی جیت کو کالعدم قراردے دیا تھا اور استنبول میں 23 جون کو مئیر کا دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

وہ اب دوبارہ میدان میں ہیں اور وہ انتخابی مہم کے دوران میں بلدیہ استنبول میں سابقہ دور میں ہونےوالی شہ خرچیوں اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔وہ سی این این ترک کے جس پروگرام میں پیش ہوئے تھے،اس کا نام ’’غیر متعصب زون‘‘ ہے۔اس پر ٹویٹر کے ایک صارف نے لکھا ہے کہ سی این این کو امام اوغلو کا انٹرویو روکنے پر اب پروگرام کا نام تبدیل کردینا چاہیے اور اس کو ’’ متعصب زون‘‘ کا نام دے دیناچاہیے۔

اکرم امام اوغلو کو ترکی کی ٹی وی سکرینوں پر کم ہی وقت دیا جاتا ہے جبکہ صدر رجب طیب ایردوان کی مارچ میں بلدیاتی انتخابات سے قبل حکمراں جماعت کے امیدوار بن علی یلدرم کے حق میں ٹی وی چینلوں پرکم وبیش روزانہ ہی تقریریں نشر کی جاتی تھیں۔

وہ سی این این ترک کو بتا رہے تھے کہ انھوں نے اپنی اٹھارہ روزہ مختصر مئیرشپ کے دوران میں استنبول بلدیہ میں فضول خرچیوں کا پتا چلا یا تھا۔انھوں نے پروگرام میں شرکت کے دوران میں پلے کارڈ پکڑ رکھے تھے جن پر ان فضول خرچیوں اور سرکاری کاروں کی غیرضروری بہت زیادہ تعداد کی تفصیل درج تھی۔وہ جب اس موضوع پر آگے بڑھنے لگے تو سی این این ترک کے میزبان احمد حقان نے انھیں گفتگو کرنے سے روک دیا۔پہلے تو انھوں نے پروگرام میں اشتہارات چلانے کے لیے وقفہ کیا ۔اس کے بعد جب امام اوغلو نے بلدیہ کے مالی امور کے بارے میں مزید گفتگو پر اصرار کیا تو انھوں نے پروگرام ہی کو بند کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ انٹرویو آدھا گھنٹا مزید چلنا تھا لیکن انھیں یہ بتایا گیا کہ اس پروگرام کا وقت ختم ہوگیا ہے۔سوشل میڈیا کے بہت سے صارفین نے اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایک صارف نے لکھا ہے:’’ احمد حقان تم ایک برے صحافی ہو ،تم کیا سمجھتے ہو کہ وقت صرف تمھارے یا تم ایسے لوگوں ہی کے لیے ہے‘‘۔

بلدیہ استنبول نے ایک بیان میں امام اوغلو کے سرکاری کاروں سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسے دعوے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے جان بوجھ کر کررہے ہیں۔

سی این این ترک کو ماضی میں بھی حکومت کی ترجمانی پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔بالخصوص 2013ء میں جب جیزی پارک میں حکومت مخالف مظاہرے جاری تھے تو اس نے انھیں رپورٹ کرنے کے بجائے پینگوئن پر ایک دستاویزی پروگرام نشر کر دیا تھا۔

سی این این ترک کیبل نیوز نیٹ ورک کی مادر کمپنی ٹرنر براڈ کاسٹنگ سسٹم انٹر نیشنل اور ترکی کی نجی ملکیتی کمپنی دوغان میڈیا گروپ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔دوغان کو گذشتہ سال دیمی رورن گروپ کو فروخت کردیا گیا تھا۔اس گروپ کے صدر ایردوآن سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس میں قائم صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’صحافیان ماورائے سرحد‘ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کا دنیا میں آزادیِ صحافت میں 157 واں نمبر ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ترک حکومت نے میڈیا ذرائع پر اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے اور وہ پیشہ ور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالنے میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔