.

ترکی کے فوجی اہلکار ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی تربیت کے لیے روس روانہ

امریکا سے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے: وزیر دفاع حلوسی عکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے روس سے خرید کیے جانے والے میزائل دفاعی نظام ایس- 400 کی تربیت کے لیے اپنے فوجی اہلکاروں کو ماسکو بھیج دیا ہے اور روس سے ماہرین بھی آیندہ مہینوں کے دوران میں ترکی آئیں گے۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے ایک بیان میں اپنے فوجیوں کو روس بھیجنے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ان کی امریکا سے روس سے میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایف 35 لڑاکا جیٹ کی خریداری کے معاملے پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ان کا ملک امریکا کی ممکنہ پابندیوں کے لیے بھی تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا سے پیٹریاٹ میزائل اور شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے علاقے کی صورت حال کے بارے میں بھی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ان کے بہ قول ترکی امریکا کی جانب سے پیٹریاٹ نظام کی فروخت کی پیش کش کے بعد جنگی آلات ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار سے متعلق امور پر بات چیت کررہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں امریکا نے روس سے میزائل دفاعی نظام ایس -400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات مہیا کرنے کا عمل روک دیا تھا ۔امریکا کا اپنے نیٹو اتحادی ملک کے خلاف یہ پہلا ٹھوس اقدام تھا ۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس بات پر مُصر ہیں کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے ایس- 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کے ردعمل میں امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ مہیا کرنے کا عمل منجمد کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔

حلوسی عکار نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی ایف 35 لڑاکا جیٹ کے منصوبے سے متعلق اپنی ذمے داریوں کو پورا کررہا ہے اور اس کو امید ہے کہ یہ پروگرام منصوبے کے مطابق جاری رہے گا۔انھوں نے بتایا کہ امریکی حکام کے ساتھ اس موضوع پر ابھی بات چیت جاری ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ ترکی بیک وقت یہ جدید لڑاکا طیارے اور روس سے میزائل دفاعی نظام خرید نہیں کرسکتا ۔ امریکا نے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے دستبرداری کی صورت میں ترکی کو اس کے ہم پلّہ ’رے تھیون کو پیٹریاٹ دفاعی نظام ‘فروخت کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔وزیر دفاع حلوسی عکار کا کہنا تھا کہ ترکی امریکا کی اس میزائل نظام کی خریداری کی پیش کش کا ابھی جائزہ لے رہا ہے۔

ترکی کے روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے فیصلے سے اس کے نیٹو اتحادی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل دفاعی نظام معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو )کے فوجی آلات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔امریکا اور اس کے ایف -35 لڑاکا جیٹ رکھنے والے نیٹو اتحادی ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام کے ذریعے لڑاکا جیٹ طیاروں کا سراغ لگانے اور روکنے کا پتا چل جائے گا اور اس طرح مستقبل میں روسی ساختہ ہتھیاروں سے بچاؤ مشکل ہوجائے گا۔