.

قطری بی اِن میڈیا گروپ کے سی ای او پر فرانس میں بدعنوانی کے الزام میں فرد ِجُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں قطر کے ملکیتی بی اِن میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) یوسف العبیدلی پر بدعنوانی کے الزام میں ابتدائی فرد ِجُرم عاید کردی گئی ہے۔

ایک فرانسیسی عہدہ دار نے بدھ کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یوسف العبیدلی کو 28 مارچ کو کرپشن کے الزام میں ماخوذ کیا گیا تھا۔وہ پیرس سینٹ جرمین کلب کے صدر اور بی اِن کے چئیرمین قطری کاروباری شخصیت ناصر الخلیفی کے قریبی ساتھی شمار ہوتے ہیں اور اس فرانسیسی کلب کے بورڈ کے رکن بھی ہیں۔

یادرہے کہ فرانسیسی اخبار لی موندے نے نومبر 2016ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بین الاقوامی تنظیم برائے ایتھلیٹکس فیڈریشن ( آئی اے اےایف) کے اس سابق عہدہ دار نے قطری سرمایہ کاروں سے 35 لاکھ ڈالرز دو اقساط میں وصول کیے تھے۔انھیں یہ رقم 2017ء میں ٹریک ورلڈ چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے رائے شماری سے قبل ادا کی گئی تھی۔

قطر اس چیمپئن شپ کی میزبانی لندن کے مقابلے میں ہار گیا تھا لیکن بعد میں اس کو 2019ء میں ہونے والی چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔اب یہ چیمپئن شپ دوحہ میں 27ستمبر سے 6 اکتوبر تک منعقد ہوگی۔

مذکورہ رقم قطری حکومت سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ اوریکس قطر اسپورٹس انوسٹ منٹس کی جانب سے اکتوبر اور نومبر 2011ء میں پامودزئی اسپورٹس مارکیٹنگ کو ادا کی گئی تھی۔پامودزئی فرم سینی گال سے تعلق رکھنے والے پاپا مساتا ڈیاک نے قائم کی تھی۔ وہ اس سے پہلے آئی اے اے ایف کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ رہے تھے لیکن ان پر 2012ء میں منعقدہ اولمپکس سے قبل روس سے تعلق رکھنے والے ایک میراتھن ایتھلیٹ سے ڈوپنگ کی پابندی عاید نہ کرنے کے عوض ہزاروں ڈالرز لینے کے الزام میں پابندی عاید کردی گئی تھی۔

ڈیاک بین الاقوامی تنظیم برائے ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سابق صدر لامین ڈیاک کے بیٹے ہیں۔ لی موندے کی رپورٹ کے مطابق لامین ڈیاک کے خلاف مارچ میں قطری بولی کے حق میں ’’مجہول بدعنوانی‘‘ کے الزام میں فردِ جرم عاید کی گئی تھی۔ قطر کی حمایت کرنے پر یہ رقم ان کے بیٹے کی کمپنی کو منتقل کی گئی تھی۔

برازیل اور فرانس میں حکام لامین ڈیاک اور ان کے بیٹے کے خلاف بدعنوانی کے ایک اور الزام کی بھی تحقیقات کررہے ہیں۔ان دونوں پر 2016ء میں ریو ڈی جنیرو کو اولمپکس کی میزبانی دلانے کے لیے رشوت کا بندوبست کرنے کا الزام ہے۔مسٹر ڈیاک 1999ء سے 2015ء تک آئی اے اے ایف کے سربراہ رہے تھے۔

واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین کلب کے صدر ناصر الخلیفی پر 2026ء اور 2030ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کے ٹیلی ویژن حقوق بھاری رقوم کے عوض آگے دوسری کمپنیوں کو بیچنے کے الزام کی بھی تحقیقات کی گئی ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کے بہ قول جن میڈیا حقوق کی بابت تحقیقات کی گئی ہے،یہ مشرقِ اوسط اور مغربی زون سے متعلق ہیں اور ان ممالک میں بی اِن میڈیاگروپ کے ساتھ مقابلے میں کوئی اور گروپ شریک نہیں تھا۔اس موقف پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر ایسا تھا تو پھر ناصر الخلیفی نے فیفا کے بعض حکام کے ساتھ سمجھوتے کی کیوں کوشش کی تھی۔

ناصر الخلیفی کے خلاف چار ممالک میں فٹ بال کی عالمی فیڈریشن (فیفا) کے سابق سیکرٹری جنرل جیروم والک کو لاکھوں ڈالرز رشوت دے کر فٹ بال میچوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق حاصل کرنے کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی ہے۔اطالوی پولیس کے مطابق انھوں نے مبیّنہ طور پر سردینیا میں واقع 70 لاکھ یورو مالیت کا اپنا ایک وِلا جیروم والک کو استعمال کے لیے دیا تھا۔