.

کیا داعش کے جنگجوؤں کو ترک بحری جہاز سفر کی سہولت فراہم کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج نے چند روز قبل لیبیا کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے ترکی کے ایک بحری جہاز ایمازون کے ذریعے شدت پسندوں حتیٰ کہ 'داعش' کے جگجوئوں‌ کی بیرون ملک سے لیبیا منتقلی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کے ایک افسر کرنل ابوبکر البدری نے انکشاف کیا کہ طرابلس کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے ترکی کے ایک بحری جہاز سے 'داعش' کے جنگجوئوں کو شام اور عراق سے ترکی کے راستے لیبیا لائے جانے کا شبہ ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ حال ہی میں ترکی کی طرف سے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو جنگی ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری اسلحہ کی بھاری مقدار پہنچائی گئی تھی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ شبہ ہے کہ اس جہاز کے ذریعے ترکی نے داعش کے دہشت گردوں کو شام اور عراق سے لیبیا منتقل کیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا کی قومی فوج چار اپریل سے طرابلس میں قومی وفاق حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے حملہ آور ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق طرابلس پر فوج کشی کے بعد 75 ہزار شہری نقل مکانی پرمجبور ہوئے ہیں جب کہ 126 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔